رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
بڑیبوڑھیعورتکابچےکوچپکرانےکےلئےپستانمنہمیںدینا
سوال:۔
ہمارے وطن میں رواج ہے کہ جب گھر کی عورتیں کام کاج میں لگ جاتی ہیں اور چھوٹے بچے جب رونا شروع کردیتے ہیں تو ان کو خاموش کرنے کے لئے گھر کی معمر ترین خاتون دُودھ پلانا شروع کردیتی ہے، جبکہ اس عورت کا دُودھ نہیں ہوتا۔ کیا اس سے یہ بچہ اس کی اولاد بن جاتا ہے؟ یہ صورت کبھی یوں بھی پیش آجاتی ہے کہ پڑوس کی کوئی عورت کسی کام کو جاتی ہے تو اپنا شیرخوار بچہ معمر عورت کے سپرد کردیتی ہے کہ سنبھال کر رکھے، ایسی صورت میں بچے کے رونے پر معمر خاتون دُودھ پلادیتی ہے حالانکہ دُودھ ہوتا نہیں ہے، کیا اس طرح یہ بچہ اس عورت کا بچہ بن جاتا ہے؟
جواب:۔
جن عورتوں کو زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے دُودھ نہیں آتا صرف بچوں کو خاموش کرانے کی غرض سے بچوں کو گود میں لیتی ہیں تو اس سے وہ بچے ان کی اولاد نہیں بنتے، کیونکہ اولاد بننے کے لئے شرط ہے کہ دُودھ پیا جائے، اور ان عورتوں کے دُودھ کا اِمکان ہی نہیں۔(۱)
- (۱) إمرأۃ کانت تعطی ثدیھا صبیۃ واشتھر ذٰلک بینھم ثم تقول لم یکن فی ثدیی لبن حین القمتھا ثدیی ولم یعلم ذٰلک إلّا من جھتھا جاز لِابنھا أن یتزوّج بھٰذہ الصبیۃ۔ (رد المحتار، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۱۲)۔ وفیہ: المراد بالمصّ الوصول إلی الجوف من المنفذین۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۲۰۹، طبع ایچ ایم سعید)۔

