بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

۷-۸‌سال‌کی‌عمر‌میں‌دُودھ‌پینے‌سے‌رضاعت‌ثابت‌نہیں‌ہوتی

سوال:۔

میری والدہ نے میری خالہ کا وہ دُودھ جو کہ وہ پھینکنے کے لئے دیا کرتی تھیں، تقریباً ۷-۸ سال کی عمر میں پی لیا تھا، جس کا میری خالہ کو قطعی علم نہیں تھا، اب آپ یہ فرمائیں کہ آیا میرا خالہ زاد بھائی میری والدہ کا دُودھ شریک بھائی ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ میری بہن کی شادی میرے خالہ زاد بھائی سے ہوسکتی ہے یا نہیں؟

جواب:۔

رضاعت کی مدّت دو سال (اور ایک قول کے مطابق اڑھائی سال) ہے،(۱) اس مدّت کے بعد رضاعت کے اَحکام جاری نہیں ہوتے،(۲) لہٰذا ۷-۸ سال کی عمر میں دُودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، اس لئے آپ کی بہن کا عقد خالہ زاد سے ہوسکتا ہے۔

  1. (۱) ومدۃ الرضاع عند أبی حنیفۃ ثلاثون شھرًا۔۔۔ وقالَا سنتان لأن أدنٰی مدۃ الحمل ستۃ أشھر فبقی للفصال حولَان قال فی الفتح: وھو الأصح، وفی التصحیح عن ’’العیون‘‘ وبقولھما نأخذ للفتویٰ ۔۔۔إلخ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۲ ص:۱۶۳، کتاب الرضاع، طبع قدیمی)۔
  2. (۲) ویثبت التحریم فی المدۃ فقط۔ (در مختار علٰی ھامش رد المحتار، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۱۱)۔