رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
دُوسرےبچےکےلئےپہلےکادُودھچھڑاناجائزہے
سوال:۔
قرآن میں ہے کہ بچے کو دو یا ڈھائی سال تک دُودھ پلایا جائے، اگر دُوسرا بچہ پیدا ہو تو اس صورت میں کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔
دو ڈھائی سال بچے کو دُودھ پلانے کی آخری مدّت ہے، اس سے پہلے بھی دُودھ چھڑایا جاسکتا ہے۔ دُوسرے بچے کی صورت میں پہلے بچے کا دُودھ چھڑالیا جائے اور باہر کا دُودھ پلایا جائے۔(۱)
- (۱) ومدۃ الرضاع عند أبی حنیفۃ ثلاثون شھرًا۔۔۔ وقالَا سنتان لأن أدنٰی مدۃ الحمل ستۃ أشھر فبقی للفصال حولَان قال فی الفتح: وھو الأصح، وفی التصحیح عن ’’العیون‘‘ وبقولھما نأخذ للفتویٰ ۔۔۔إلخ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۲ ص:۱۶۳، کتاب الرضاع، طبع قدیمی)۔

