بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

شیرخوارگی‌کی‌مدّت‌کے‌بعد‌دُودھ‌پینا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

کیا کوئی بالغ شخص کسی عورت کا دُودھ پینے پر اس عورت کا بیٹا شمار ہوگا یا نہیں؟ یعنی رضاعت کا اعتبار زمانۂ شیرخوارگی پر کیا جائے گا یا کہ دُودھ پر؟ کیونکہ ہمارے محلے میں ایک گھر ایسا ہے جہاں وہ لوگ اپنے جس نوکر کو گھر میں آنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں تو اسے عورت کا دُودھ کچھ مقدار میں پلادیا جاتا ہے۔ مزید برآں اگر بالغ شخص کو دُودھ پلانے پر رضاعت کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا تو پھر شوہر کا اپنی بیوی کا دُودھ پینے کے متعلق قرآن و سنت کا کیا حکم ہے؟

جواب:۔

رضاعت صرف شیرخوارگی کے زمانے میں ثابت ہوتی ہے، جس کی مدّت صحیح قول کے مطابق دو سال ہے، اور ایک قول کے مطابق اڑھائی سال ہے۔(۱) شیرخوارگی کی مذکورہ بالا مدّت کے بعد دُودھ پلانے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، نہ اس پر حرمت کے اَحکام جاری ہوتے ہیں۔(۲) شیرخوارگی کی مدّت کے بعد اپنے بچے کو بھی دُودھ پلانا حرام ہے۔(۳) اسی طرح کسی عورت کا دُودھ کسی بڑی عمر کے لڑکے کو پلانا حرام ہے۔(۴) اس لئے آپ نے اپنے محلے کے جس گھر کا ذِکر کیا ہے ان کا فعل ناجائز ہے۔ بیوی کا دُودھ پینا بھی حرام ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔(۵)

  1. (۱) فی باب الرضاع: وھو مص من ثدی آدمیۃ (إلٰی قولہ) فی وقت مخصوص ھو حولَان ونصف عندہ وحولَان فقط عندھما وھو الأصح۔ فتح۔ وبہ یفتٰی۔ (در مختار مع رد المحتار، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۵۹)۔
  2. (۲) فإذا مضت مدّۃ الرضاع علی الخلاف لم یتعلق بالرضاع تحریم ولم یفطم۔ (اللباب، کتاب الرضاع ج:۲ ص:۱۶۳)۔
  3. (۳) ولم یبح الْإرضاع بعد مدتہ لأنہ جزء آدمی والْإنتفاع بہ بغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح، شرح الوھبانیۃ۔ (شامیۃ، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۱۱، طبع ایچ ایم سعید)۔
  4. (۴) أیضًا۔
  5. (۵) مص رجل ثدی زوجتہ لم تحرم۔ (شامیۃ، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۵)۔