رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
بیسسالکےلڑکےکودُودھپلانےسےوہبیٹانہیںبنےگا
سوال:۔
کیا کوئی عورت کسی بڑے لڑکے کو عمر بیس سال دُودھ شریک کرکے اپنا بیٹا بناسکتی ہے؟ یہ دُودھ پیالی میں گائے کے دُودھ میں ملاکر دِیا جاتا ہے، مقصد صرف رِشتے ناتے بڑھانا ہے۔
جواب:۔
دُودھ کا رِشتہ صرف بچے کے شیرخوارگی کے زمانے میں دُودھ پینے سے قائم ہوتا ہے۔(۱) اور شیرخوارگی کا زمانہ دو سال ہے،(۲) (اور حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کی ایک روایت کے مطابق اڑھائی سال ہے)۔(۳) اس مدّت کے بعد اگر بچہ بھی دُودھ پیئے تو دُودھ کا رِشتہ (رضاعت) ثابت نہیں ہوتا۔(۴) اس لئے بیس برس کے آدمی کو دُودھ پلانے سے وہ بیٹا نہیں بنے گا، اور شیرخوار بچے کے علاوہ کسی کو عورت کا دُودھ پلانا بھی حرام ہے۔(۵)
- (۱) ویثبت التحریم فی المدۃ فقط۔ (شامی ج:۳ ص:۲۱۱)۔
- (۲) قال تعالٰی: ﵟ وَٱلۡوَٰلِدَٰتُ يُرۡضِعۡنَ أَوۡلَٰدَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِۖ لِمَنۡ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَۚ ﵞ البقرة ٢٣٣۔
- (۳) ثم مدّۃ الرضاع ثلاثون شھرًا عند أبی حنیفۃ وقالَا سنتان۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۵۰، کتاب الرضاع)۔
- (۴) أیضًا۔
- (۵) ولم یبح الْإرضاع بعد مدتہ لأنہ جزء آدمی والْإنتفاع بہ بغیر ضرورۃ حرام۔ (شامی ج:۳ ص:۲۱۱)۔

