بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

مدّتِ‌رضاعت‌کے‌بعد‌اگر‌دُودھ‌پلایا‌تو‌حرمت‌ثابت‌نہیں‌ہوگی

سوال:۔

سلمیٰ اور عقیلہ دو سگی بہنیں ہیں، سلمیٰ کا لڑکا صغیر حسین جب چھ سال کی عمر کا تھا، اس وقت عقیلہ کے لڑکے کبیر کی عمر ۹ ماہ تھی، عقیلہ نے ایک چمچ اپنا دُودھ دوا میں ملاکر صغیر حسین کو پلایا تھا، اس کے بعد عقیلہ کے چار لڑکے لڑکیاں اور پیدا ہوئیں، عقیلہ کا چوتھا لڑکا کرار حسین جوان ہوگیا جبکہ صغیر حسین کی لڑکی جمیلہ جوان ہوگئی، اور انڈیا میں دونوں کا نکاح کردیا گیا، فتویٰ دیجئے کہ صغیر حسین کی لڑکی جمیلہ اور عقیلہ کے لڑکے کرار حسین کا آپس میں نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

چھ سال کے بچے کو دُودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی،(۱) اس لئے صغیر حسین کی لڑکی سے عقیلہ کے لڑکے کا نکاح صحیح ہے۔

  1. (۱) وإذا مضت مدۃ الرضاع لم یتعلق بالرضاع تحریم کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳)۔