رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
اگررضاعتکاشبہہوتواحتیاطبہترہے
سوال:۔
ایک عورت نے اپنی ہی ایک خواہرزادی کو دُودھ پلایا، اس کا اس عورت نے خود اقرار بھی کیا اور دو سال تک بھرپور انداز میں اس کو تسلیم بھی کیا۔ خاندان کے بقیہ افراد نے بھی اس کو تسلیم کیا، لیکن اچانک اس بچی کے رشتے کے لئے بیان کو حلفاً تبدیل کیا، اس عورت نے اقرار اس انداز میں کیا کہ: ’’یہ بچی مجھے بہت پسند ہے، میں اپنے بچے سے اس کا رشتہ کردیتی مگر اس نے میرا دُودھ پیا ہے۔‘‘ بعد ازاں اس کے شوہر کے بھائی کے لئے اس رشتے کی بات چلی تو اس عورت نے اپنا بیان تبدیل کرلیا کہ اس نے میرا دُودھ نہیں پیا، ’’میرے علم میں نہیں‘‘، جواب طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا اس عورت کا رشتے کے حصول کے لئے بیان تبدیل کرنا جائز ہے؟
جواب:۔
دُوسرے معاملات کی طرح دُودھ پلانے کا ثبوت بھی دو گواہوں کی شہادت سے ہوتا ہے، محض دُودھ پلانے والی کے کہنے سے نہیں ہوتا۔(۱) تاہم جبکہ ایک عرصے تک دُودھ پلانے والی کے قول پر اِعتماد کرکے یہ یقین کیا جاتا رہا کہ فلاں بچے نے فلاں عورت کا دُودھ پیا ہے، اس کے بعد اس عورت کا اپنے اِقرار سے اِنحراف شک و شبہ کا موجب ہے، اس لئے اس بچی کا نکاح اس عورت کے دیور سے کرنا خلافِ اِحتیاط ہے، لہٰذا نہیں کرنا چاہئے، جیسے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’جس چیز کے بارے میں تمہیں شک ہو اس کو ترک کردو۔‘‘(۲)
- (۱) ولَا تقبل فی الرضاع شھادۃ النساء منفردات لأن شھادۃ النساء ضروریۃ فیما لَا إطلاع للرجال علیہ والرضاع لیس کذالک، وإنما یثبت بما یثبت بہ المال۔ (اللباب ج:۲ ص:۱۶۷، کتاب الرضاع، طبع قدیمی)۔
- (۲) عن الحسن بن علی قال: حفظت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: دع ما یریبک إلٰی ما لَا یریبک۔ (مشکوٰۃ، باب الکسب وطلب الحلال ص:۲۴۲، طبع قدیمی)۔

