بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

رضاعت‌کے‌بارے‌میں‌عورت‌کا‌قول،‌ناقابلِ‌اعتبار‌ہے

سوال:۔

میرے چچازاد دو بھائیوں کے لڑکا اور لڑکی (جو آپس میں رضاعی بہن بھائی بتائے جاتے ہیں) نے نکاح کیا، جس مولوی صاحب نے نکاح پڑھوایا، اس کو بعد میں بتایا گیا کہ معاملہ تو ایسا ہے، مولوی صاحب نے جواباً کہا کہ تین آدمیوں کی شہادت پیش کرو کہ یہ دُودھ پیا گیا ہے، لڑکا اور لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ یہ بات جھوٹ ہے، لڑکے نے لڑکی کی سوتیلی ماں کا دُودھ نہیں پیا ہے، میں اور خاندان کے چند اور بھائیوں نے اسی دوران اس بات پر لڑکے اور لڑکی کے والدین کے ساتھ فتویٰ لے کر قطع تعلق کیا، چونکہ تین شہادتیں ہمارے پاس نہیں تھیں۔ البتہ جس عورت کا دُودھ پیا گیا تھا، چونکہ لڑکی کے والد نے دُوسری شادی کی اور پہلی عورت سے ناچاقی ہوگئی ہے، اس لئے وہ اپنے والدین کے ہاں رہائش پذیر ہے، ہم تین آدمی اس عورت کے پاس چلے گئے اور اس کے حالات معلوم کئے تو اس عورت نے کلمہ پڑھا اور کہا کہ میں نے اس لڑکے کو دُودھ پلایا ہے، اور اس کے خاوند کا کہنا ہے کہ چونکہ میرے اس عورت کے ساتھ تعلقات دُوسری شادی کی وجہ سے اچھے نہیں، اس لئے وہ مجھ سے انتقام لینا چاہتی ہے اور جھوٹا الزام لگاتی ہے۔

اب چونکہ یہ بات مشکوک ہوگئی ہے کہ عورت سچ بولتی ہے یا جھوٹ اور تین گواہ بھی ہمارے پاس نہیں ہیں، اس لئے گزارش ہے کہ ہمیں اس بات کا فتویٰ صادر فرمایا جائے کہ آیا میں نے جو قطع تعلق کیا ہے یہ جائز ہے یا ناجائز؟

جواب:۔

رضاعت کے ثبوت کے لئے دو گواہوں کی چشم دید شہادت ضروری ہے، صرف دُودھ پلانے والی کا یہ کہنا کہ: ’’میں نے دُودھ پلایا ہے‘‘ کافی نہیں۔(۱) اس لئے صورتِ مسئولہ میں نکاح صحیح ہے اور اس عورت کا قول ناقابلِ اعتبار ہے۔

  1. (۱) والرضاع حجتہ حجۃ المال وھی شھادۃ عدلین أو عدل وعدلتین (إلٰی قولہ) وھل یتوقف ثبوتہ علٰی دعوی المرأۃ، الظاھر لَا، کما فی الشھادۃ بطلاقھا۔ (درمختار مع رد المحتار، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۴)۔