بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

عورت‌کے‌دُودھ‌کی‌حرمت‌کا‌حکم‌کب‌تک‌ہوتا‌ہے؟

سوال:۔

ایک میاں بیوی جو خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے تین بچوں سے نوازا ہے، سب سے چھوٹی شیرخوار بچی جس کی عمر تقریباً ڈیڑھ سال ہے اور ماں کا دُودھ پیتی ہے، ایک روز رات کے وقت بچی نے دُودھ نہیں پیا جس کی وجہ سے اس عورت کا دُودھ بہت چڑھ آیا، تکلیف کی وجہ سے مجبوراً اس عورت کو اپنا دُودھ خود نکالنا پڑا، اس نے اپنا دُودھ نکال کر کسی برتن میں اس غرض سے رکھا کہ بعد میں کسی صاف جگہ یہ دُودھ ڈال دیں گی یا ڈلوادیں گی، کیونکہ اس عورت نے کسی سے سن رکھا تھا کہ ویسے ہی عام جگہ یا گندی جگہ پر اس قسم کا دُودھ پھینکنا گناہ ہے، حسبِ معمول وہ صبح کی چائے کے لئے بھی رات ہی کو دُودھ منگواکر رکھ لیا کرتے تھے، یعنی اس کا شوہر چائے کے لئے دُودھ لاکر رکھ دیا کرتا تھا، صبح اس کے شوہر نے اُٹھ کر چائے بنائی اور غلطی سے چائے والا دُودھ چائے میں ڈالنے کے بجائے اپنی بیوی کا وہ نکالا ہوا دُودھ چائے میں ڈال کر چائے بنائی اور وہ چائے دونوں میاں بیوی اور بچوں نے پی لی۔ چائے پینے کے کچھ دیر بعد جب اس کی بیوی نے وہ اپنا نکالا ہوا دُودھ کسی صاف جگہ ڈلوانے کے لئے اپنے شوہر کو دینا چاہا تو دیکھا کہ اس برتن میں دُودھ نہیں۔ اس بارے میں اس نے اپنے شوہر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس برتن والا دُودھ تو میں چائے میں ڈال چکا ہوں، اور جب اس نے دیکھا تو چائے والا دُودھ ویسے کا ویسا ہی پڑا تھا۔ بیوی یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہوئی تو شوہر نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بیوی نے بتایا کہ اس برتن میں تو میں نے اپنا دُودھ رات کے وقت تمہارے سامنے نکال کر رکھا تھا جو تم نے چائے میں ڈال دیا اور وہ چائے ہم سب نے پی لی ہے۔ اب دونوں میاں بیوی سخت پریشان ہوئے تو انہوں نے ایک عالم صاحب سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا، تمام واقعات سننے کے بعد اس عالم صاحب نے بتایا کہ تم دونوں میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ چکا ہے اور اَب تم دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے کسی صورت میں بھی نہیں رہ سکتے، کیونکہ تمہاری بیوی اب تمہاری رضاعی ماں بن چکی ہے، اب یہ بیوی تم پر حرام ہے۔

لہٰذا اب آپ اس مسئلے پر قرآن و سنت کے مطابق روشنی ڈالیں کہ کیا واقعی ان دونوں میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ گیا؟ کیا ان دونوں میاں بیوی کے مابین طلاق ہوگئی؟ کیا اب یہ عورت اپنے میاں پر حرام ہے؟ کیا رُجوع کرنے سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے؟ کیا حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے؟

جواب:۔

عورت کے دُودھ سے حرمت جب ثابت ہوتی ہے جبکہ بچے نے دو سال کی عمر کے اندر اس کا دُودھ پیا ہو۔(۱) بڑی عمر کے آدمی کے لئے دُودھ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، نہ عورت رضاعی ماں بنتی ہے، لہٰذا ان دونوں میاں بیوی کا نکاح قائم ہے۔ اس عالم صاحب نے مسئلہ قطعاً غلط بتایا، ان دونوں کا نکاح نہیں ٹوٹا،(۲) اس لئے نہ حلالہ کی ضرورت ہے، نہ دوبارہ نکاح کرنے کی، اور نہ کسی کفارے کی، اطمینان رکھیں۔

  1. (۱) باب الرضاع: ھو مص ثدی آدمیۃ (إلٰی قولہ) فی وقت مخصوص ھو حولَان ونصف عندہ وحولَان فقط عندھما وھو الأصح، فتح، وبہ یفتٰی۔ (درالمختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۲۰۹، کتاب النکاح، باب الرضاع)۔
  2. (۲) مص رجل ثدی زوجتہ لم تحرم۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۵)۔