بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

رضاعت‌کا‌ثبوت

سوال:۔

میری، میرے ماموں کی لڑکی کے ساتھ منگنی ہوئی ہے، میری والدہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کو دُودھ پلایا تھا، اور کسی وقت کہتی ہیں نہیں۔ میرا، میرے ماموں کی لڑکی کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

رضاعت کا ثبوت دو عادل مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت سے ہوتا ہے۔(۱) پس جب آپ کی والدہ کو بھی یقین نہیں اور دُودھ پلانے کے گواہ بھی نہیں تو رضاعت ثابت نہ ہوئی، اس لئے نکاح ہوسکتا ہے، البتہ اس نکاح سے پرہیز کیا جائے تو بہتر ہے۔

  1. (۱) (و) الرضاع حجتہ (حجۃ المال) وھی شھادۃ عدلین أو عدل وعدلتین (إلٰی قولہ) وھل یتوقف ثبوتہ علٰی دعوی المرأۃ، الظاھر لَا کما فی الشھادۃ بطلاقھا۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۴)۔