جبرواِکراہسےنکاح
اپنیبہنکاگھربسانےکےلئےبہنوئیکیبہنسےشادیکرنا
سوال:۔
دو اَشخاص زید اور بکر باہم رشتہ دار ہیں۔ زید، بکر کی بہن سے باہمی رضامندی سے شادی کرنا چاہتا ہے، اور ہر دو کی خواہش ہے کہ بکر بھی زید کی بہن سے شادی کرے، اور اس معاملے میں بکر پر خاندان کی طرف سے دباؤ بھی ہے۔ حالانکہ بکر، زید کی بہن سے شادی کرنے پر دِل سے رضامند نہیں ہے، لیکن چونکہ خاندان میں بکر کی بہن کے لئے زید کے علاوہ کوئی موزوں رشتہ موجود نہیں ہے اور بکر کو ڈَر ہے کہ اگر وہ زید کی بہن کا رِشتہ قبول نہیں کرتا تو اس کی بہن کا گھر نہ بس سکے گا، اس لئے وہ اپنی بہن کا گھر بسانے کی خاطر زید کی بہن کا رِشتہ قبول کرلیتا ہے۔ کیا اس صورت میں یہ نکاح جائز ہوں گے؟ اور اگر نہیں تو کس جوڑے کا نکاح متأثر ہوگا؟
جواب:۔
یہی خرابی ہے جس کی طرف اُوپر کے جواب میں اِشارہ کیا گیا تھا۔ نکاح تو دونوں جائز ہوں گے،(۱) لیکن سوال یہ ہے کہ جب بکر، زید کی بہن سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو اس کو کیوں مجبور کیا جاتا ہے؟
- (۱) وینعقد بالْإیجاب والقبول۔ (البحر الرائق، کتاب النکاح۔ ج:۳ ص:۸۷، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

