بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جبر‌و‌اِکراہ‌سے‌نکاح

وٹے‌سٹے‌کی‌شادی‌اور‌اس‌کا‌معنی

سوال:۔

دو اَشخاص ’’الف‘‘ اور ’’ب‘‘ کی ایک دُوسرے کی بہن سے نسبت طے ہے، اور دونوں جوڑے باہم شادی کرنے پر نہ صرف رضامند بلکہ خواہش مند بھی ہیں، لیکن معلوم ہوا ہے کہ اسلام اس قسم کی (وٹاسٹا کی شادی) کی اِجازت نہیں دیتا، پوچھنا یہ ہے کہ آیا یہ شادی واقعی وٹاسٹا کی شادی ہے؟

جواب:۔

حدیث میں وٹے سٹے کی جس شادی کو ’’شغار‘‘ فرمایا گیا ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ عورت کو ’’مہر‘‘ قرار دِیا جائے، اس لئے سوال میں وٹے سٹے کی جو صورت مذکور ہے، حدیث پاک کی ممانعت اس کو شامل نہیں۔ وٹاسٹا کی شادی جس میں دونوں نکاح الگ الگ ہوں، اور دونوں کا مہر جدا جدا رکھا جائے، جائز ہے۔(۱) البتہ دُوسری خرابیوں کی وجہ سے اگر یہ صورت نامناسب سمجھی جائے تو دُوسری بات ہے۔

  1. (۱) عن ابن عمر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن الشغار۔ زاد مسدد فی حدیثہ: قلت لنافع: ما الشغار؟ قال: ینکح إبنۃ الرجل وینکحہ إبنتہ بغیر صداق، وینکح اُخت الرجل فینکحہ اُختہ بغیر صداق۔ (سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۲۸۳، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔