بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جبر‌و‌اِکراہ‌سے‌نکاح

رقم‌اور‌پیدا‌ہونے‌والی‌لڑکی‌دینے‌کی‌شرط‌پر‌رِشتہ‌دینا

سوال:۔

ایک عورت کا نکاح ایک شخص سے ان شرائط پر ہوا کہ مبلغ سولہ ہزار روپے دے گا، بوقتِ نکاح آٹھ ہزار، اگر لڑکی پیدا ہوئی تو وہ لڑکی بھی دے گا، جب لڑکی پیدا ہوئی تو اس سے لڑکی مانگی، اس شخص نے لڑکی دینے سے انکار کیا تو اس نے قسم اُٹھاکر کہا کہ اگر لڑکی نہیں دیتے تو مبلغ چالیس ہزار روپے دیں، حالانکہ یہ فیصلہ طے نہیں ہوا تھا، کیا وقتِ نکاح لکھ کر دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور لڑکی پیدا ہونے سے پہلے اسے شرائط پر دے دینا کیا بروئے شرع کیسا ہے؟

جواب:۔

’’لڑکی بھی دے گا‘‘ مراد غالباً یہ ہے کہ لڑکی کا رِشتہ بیوی کے میکے والوں کو دے گا، اگر یہی مراد ہے تو یہ شرط باطل اور جاہلانہ شرط ہے، اس سے توبہ کی جائے۔ اس کے ذمے صرف بیوی کا مہر ہے،(۱) اور اس کی مالک بھی بیوی ہے، میکے والے اس کے مالک نہیں۔(۲) اور بعد میں لڑکی نہ دینے پر جو چالیس ہزار کا مطالبہ کیا جاتا ہے، یہ بھی باطل ہے۔ تعجب ہے کہ مسلمانوں میں ایسی جاہلی رسمیں پائی جاتی ہیں۔۔۔! بہرحال ان بدرَسموں سے توبہ کرنی چاہئے۔

  1. (۱) والمھر یتأکد بأحد معان ثلاثۃ الدخول والخلوۃ وموت أحد الزوجین سواء کان مسمًّی أو مھر المثل حتّٰی لَا یسقط منہ شیء ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۰۲)۔ وفی التفسیر المظھری (ج:۲ ص:۲۲۱) ولما کان الصداق عطیۃ من اللہ تعالٰی علٰی النساء صارت فریضۃ وحقًّا لھن علی الأزواج، ونظرًا إلٰی ھٰذا قال قتادۃ: فریضۃً۔
  2. (۲) ﵟ وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ ﵞ النساء ٤: أی مھورھن قال الکلبی وجماعۃ: ھٰذا خطاب للأولیاء۔۔۔ ولما کان الصداق عطیۃ من اللہ تعالٰی علی النساء صارت فریضۃً وحقا لھن علی الأزواج۔ (تفسیر مظھری ج:۲ ص:۲۲۰، ۲۲۱)۔ أیضًا: عن أبی صالح قال: کان الرجل إذا زوج إبنتہ أخذ صداقھا دونھا، فنھاھم اللہ عن ذالک، ونزلﵟ وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ ﵞ۔ رواہ ابن ابی حاتم وابن جریر۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۱۹۱، سورۃ النساء، طبع رشیدیہ)۔