جبرواِکراہسےنکاح
نابالغہکانکاحبالغہونےکےبعددوبارہکرنا
سوال:۔
میرے عزیز دوست کا نکاح تقریباً چار سال قبل ہوا، چار سال بعد شادی کی تاریخ مقرّر ہوئی تو لڑکی والوں نے دوبارہ نکاح پر اصرار کیا اور دلائل یہ دئیے کہ اس وقت لڑکی نابالغہ تھی اور یہ کہ اس کے پاس دو گواہ دستخط لینے نہیں گئے تھے، حالانکہ اصل وجہ حق مہر میں اضافہ کرنا تھا۔ لڑکے والوں نے لڑکی والوں کے دباؤ میں آکر دوبارہ نکاح کروایا اور مہر کی رقم چھ ہزار کے بجائے بیس ہزار لکھوائی اور پہلے مولوی صاحب نے ہی دوبارہ نکاح پڑھوایا۔ مجلس میں ایک بڑے مولوی صاحب بھی موجود تھے جنھوں نے کوئی مخالفت نہیں کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ جب مولانا نے مجمع کی موجودگی میں ولیوں سے ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح پڑھوایا تھا تو لڑکی کے نابالغ ہونے کی بنا پر یا گواہوں کا باقاعدہ رسمی طریقے سے جاکر لڑکی سے دستخط نہ لینے کی وجہ سے نکاح ہوا یا نہیں؟ اگر پہلا نکاح (غیر تحریری) ہوگیا تو دوبارہ نکاح (تحریری) ہونے پر پہلا دُرست سمجھا جائے گا یا دُوسرا؟
جواب:۔
پہلا نکاح اگر گواہوں کی موجودگی میں ہوا تھا تو وہ صحیح تھا،(۱) اور دُوسرا غیرضروری اور لغو۔ پہلا نکاح رجسٹرڈ نہیں ہوسکتا تھا، شاید اس وجہ سے دوبارہ کرایا گیا ہو، لیکن ان کو مہر میں اضافے کا حق نہیں تھا۔
- (۱) ویحصل إنعقادہ بالْإیجاب والقبول۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۹، کتاب النکاح)۔ وشرط حضور شاھدین۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۲۱، کتاب النکاح، طبع سعید)۔

