جبرواِکراہسےنکاح
بیوہکانکاحاسکیمرضیکےخلافجائزنہیں
سوال:۔
کیا شرعاً عدّتِ وفات کے اندر بیوہ کا نکاح یا نکاح کا پیغام دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا عدّت کے بعد بیوہ کی مرضی کے خلاف نکاح کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ عورت کی مرضی نہ ہو۔
جواب:۔
عدّت کے اندر نکاح نہیں ہوسکتا، بلکہ عدّت کے دوران نکاح کا پیغام دینا بھی حرام اور ممنوع ہے۔(۱) عدّت کے بعد عورت کا نکاح دُوسری جگہ کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ عورت بھی راضی ہو، اس کی مرضی کے خلاف اس کے شوہر والوں کو یا کسی اور کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ زبردستی اس بیوہ کا نکاح کرائے۔(۲)
- (۱) قال تعالٰی:ﵟ وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجٗا يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَعَشۡرٗاۖ ﵞ البقرة ٢٣٤۔ وقال تعالٰی: ﵟ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا عَرَّضۡتُم بِهِۦ مِنۡ خِطۡبَةِ ٱلنِّسَآءِ أَوۡ أَكۡنَنتُمۡ فِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمۡ سَتَذۡكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّآ أَن تَقُولُواْ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗاۚ وَلَا تَعۡزِمُواْ عُقۡدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡكِتَٰبُ أَجَلَهُۥۚ ﵞ البقرة ٢٣٥۔
- (۲) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الأیم أحق بنفسھا من ولیھا۔ (سنن أبی داوٗد، کتاب النکاح، باب فی الثیب ج:۱ ص:۲۹۳، طبع ایچ ایم سعید)۔ ایضاً گزشتہ حاشیہ: عن أبی ھریرۃ...الخ وحاشیہ: وفی روایۃ لأبی داوٗد...الخ

