جبرواِکراہسےنکاح
دھوکےکانکاحصحیحنہیں
سوال:۔
میرے ایک دوست کی بہن کا نکاح میرے دوست نے زبردست دباؤ کی وجہ سے ایک ایسے شخص سے کردیا جو کہ کسی طور پر بھی موزوں نہیں تھا۔ نکاح کے وقت لڑکی کی عمر گیارہ سال تھی اور اسے یہ کہہ کر کہ یہ زمین کے کاغذات ہیں نکاح نامے پر دستخط کرائے گئے (ان دنوں میں لڑکی کے والد کا انتقال ہوا تھا اور زمین کی ٹرانسفر کا مسئلہ تھا)، پوچھنا یہ ہے کہ اگر یہ نکاح ہوگیا تو اب اس لڑکی کو کیا کرنا چاہئے؟ کیونکہ وہ اس شادی کے لئے قطعی طور پر تیار نہیں ہے۔
جواب:۔
یہ نکاح نہیں ہوا،(۱) لڑکی اپنا عقد جہاں چاہے کرسکتی ہے۔
- (۱) وفی روایۃ لأبی داوٗد والترمذی والنسائی: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: الیتیمۃ تُستَأمر فی نفسھا، فإن صَمَتَتْ فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا، (فلا جواز علیھا) أراد بقولہ: فلا جواز علیھا أی: لَا ولَایۃ علیھا لغیر أبیھا، وحیث ھی یتیمۃ قد مات أبوھا، فلا یجبرھا علی النکاح أحد إذا أبت۔ (جامع الأصول ج:۱۱ ص:۴۶۱، الفرع الثانی فی الْإستئذان والْإجبار)۔ أیضًا: إنکاح الأخ والعم من غیر کفؤ فإنہ لَا یجوز بالْإجماع، لأنہ ضرر محض۔ (رد المحتار، کتاب النکاح، مطلب مھم ھل للعصبۃ تزویج الصغیر ۔۔۔إلخ ج:۳ ص:۶۸، طبع ایچ ایم سعید)۔

