جبرواِکراہسےنکاح
بالغلڑکیکانکاحاسکیمرضیکےخلافکرنےکیشرعیحیثیت
سوال:۔
ایک آدمی نے اپنی کنواری، عاقل، بالغ لڑکی کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف اور اس کی بلااِجازت کردیا، رُخصتی سے قبل لڑکی نے اس نکاح کو رَدّ کرکے اپنا باقاعدہ نکاح کچھ دن بعد اپنی پسند کے مسلمان، عاقل، نوجوان لڑکے سے کرلیا اور اس کے ساتھ رہنے لگی، سوال یہ ہے کہ:
۱:۔ کیا یہ دُوسرا نکاح غلط ہوا؟
۲:۔ کیا لڑکے لڑکی پر حد قائم کی جائے گی؟
۳:۔ شریعت کے نقطۂ نظر سے لڑکی کے بالغ ہونے کی عمر کا تعین کیا ہے؟ نیز لڑکی کی پسند کا لڑکا معاشی، معاشرتی، رہن سہن اور ذات پات میں کسی طرح بھی لڑکی والوں سے کم نہیں ہے۔ لڑکی کے باپ، بھائی (ولی) قبائلی عصبیت کی بنا پر اس کی مرضی کی شادی کے خلاف ہیں۔ برائے مہربانی شرعی نقطۂ نظر سے تفصیلی جواب مرحمت فرمائیے۔
جواب:۔
نکاح کے لئے لڑکی کا (جبکہ وہ بالغ ہو) رضامند ہونا شرط ہے، اور اسی کے ساتھ اس کے والدین کا راضی ہونا بھی لازم ہے۔ اس لئے اگر کسی لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر کردیا گیا تو وہ نکاح نہیں ہوگا،(۱) اور اگر لڑکی نے والدین کی اِجازت کے بغیر نکاح کرلیا تو وہ نکاح بھی مشکوک ہے۔(۲)
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أیما إمرأۃ نکحت نفسھا بغیر إذن ولیھا فنکاحھا باطل، فنکاحھا باطل، فنکاحھا باطل۔ (مشکٰوۃ ص:۲۷۰، البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۸)۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تنکح الثیب حتّٰی تستأمر، ولَا البکر إلّا بإذنھا، قالوا: یا رسول اللہ! وما إذنھا؟ قال: أن تسکت۔ وعن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تستأمر الیتیمۃ فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا۔ (سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۲۸۵، کتاب النکاح، باب فی الْإستئمار، أیضًا: جامع الأصول ج:۱۱ ص:۴۶۲)۔ ولَا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۴)۔
- (۲) کیونکہ والدین کی اِطلاع واِجازت کے بغیر نکاح عموماً وہاں ہوتا ہے جہاں لڑکا، لڑکی کے جوڑ کا نہ ہو، اور ایسی صورت میں والدین کی اِجازت کے بغیر نکاح باطل ہے، چنانچہ حدیث میں ہے:

