جبرواِکراہسےنکاح
عاقلہبالغہلڑکیکازبردستینکاح
سوال:۔
اگر کسی مسلم بالغ لڑکی کا نکاح اس کی اِجازت کے بغیر جھوٹا نکاح کیا جائے اور جبراً رُخصت کیا جائے تو کیا یہ نکاح جائز ہے؟ اگر نہیں تو کیا گواہوں اور اس میں دُوسرے شریک لوگوں کے لئے قیامت کے روز خدا کی طرف سے کون سی سزا وجزا ہے؟
جواب:۔
عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوتا،(۱) اگر فرضی نکاح کرکے لڑکی کو زبردستی رُخصت کردیا گیا تو یہ ساری عمر کا زِنا ہوگا، اور جو لوگ جانتے بوجھتے اس بدکاری میں معاون ہوئے، ان سب پر اس کا وَبال پڑے گا اور ان کی نسلیں بگڑجائیں گی۔
- (۱) لَا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۳۱۴)۔ ایضاً حوالہ سابقہ۔

