بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جبر‌و‌اِکراہ‌سے‌نکاح

عورت‌سے‌زبردستی‌نکاح‌کرنا‌کیسا‌ہے؟‌نیز‌عورت‌ایسے‌شخص‌سے‌کس‌طرح‌جان‌چھڑاسکتی‌ہے؟

سوال:۔

عرض ہے کہ ایک شخص کسی دُوسرے کے گھر سے لڑکی اُٹھالیتا ہے، اور اسے پانچ چھ مہینے اپنے ساتھ زبردستی رکھ لیتا ہے، اور اس دوران لڑکی کو مارتا ہے اور اس کو زبردستی نکاح کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور اس کے ساتھ نکاح کرتا ہے۔ محترم مولوی صاحب! قرآن وسنت کی روشنی میں کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو کیسے؟ اور اگر نہیں تو کس طرح؟ تفصیل سے جواب دے دیں۔

سوال:۔

اگر عورت اس نکاح سے اِنکار کرے اور طلاق لینا چاہے تو قرآن وسنت کی روشنی میں اس کا طریقۂ کار کیا ہے؟

جواب:۔

والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا،(۱) اور یہاں تو لڑکی کی رضامندی بھی نہیں پائی گئی، اس لئے نکاح نہیں ہوا۔(۲)

جواب:۔

یہ نکاح ہی نہیں ہوا، اس لئے طلاق کی ضرورت نہیں، لیکن اگر نکاح نامے کے فارم پر عورت کے دستخط لئے گئے تھے تو اس شخص کو مارکر طلاق کے الفاظ اس سے لکھوائے جائیں اور زبانی بھی کہلوائے جائیں۔

  1. (۱) ان المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء، وإن زوّجت من غیر کفؤ لَا یلزم أو لَا یصح۔ (شامی ج:۳ ص:۸۴، کتاب النکاح، باب الکفائۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) لَا یجوز نکاح أحد علٰی بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرًا کانت أو ثیبًا، فإن فعل ذالک فالنکاح موقوف علٰی إجازتھا، فإن أجازتہ جاز، وإن ردتہ بطل، کذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۷)۔