جبرواِکراہسےنکاح
اگرکسیلڑکینےمارپیٹکےڈرسےنکاحمیںہاںکردیتونکاحہوجائےگا
سوال:۔
مولانا صاحب! نکاح کے بارے میں آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر کسی لڑکی کو نکاح کے لئے زبردستی مارپیٹ، تشدّد سے راضی کیا جائے اور وہ لڑکی مارپیٹ کی وجہ سے ہاں کردے، لیکن بعد میں اِنکار کرے اور اسے دِل سے یہ رِشتہ قبول نہ ہو، تو کیا یہ نکاح جائز ہے؟
جواب:۔
عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوتا،(۱) لیکن اگر اس نے اِیجاب وقبول کے وقت ہاں کردی تو نکاح ہوجائے گا۔(۲) نکاح کے معاملے میں والدین کا لڑکی پر زبردستی اور تشدّد جائز نہیں۔ حدیث میں ہے کہ ایک عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کے والد نے اپنے بھتیجے سے کردیا تھا، اور یہ رشتہ لڑکی کو ناپسند تھا، اس لڑکی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، آپ نے اس کو نکاح کے قائم رکھنے یا رَدّ کرنے کا اِختیار دِیا، اس نے کہا کہ میرے والد نے جو کیا، میں اس کو جائز رکھتی ہوں، مگر میں نے لوگوں کو یہ بتانا چاہا ہے کہ والدین کو عاقلہ بالغہ لڑکی کا زبردستی نکاح کرنے کا کوئی اِختیار نہیں (جامع الاصول ج:۱۱ ص:۴۶۴)۔(۳)
- (۱) لَا تجبر بالغۃ علی النکاح أی لَا ینفذ عقد الولی علیھا بغیر رضاھا عندنا۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۸، کتاب النکاح، باب الأولیاء والأکفاء) لَا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۴، کتاب النکاح)۔
- (۲) ینعقد بالْإیجاب والقبول ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۷۰)۔
- (۳) حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا أنّ فَتَاۃً دخلتْ علیھا، فقالت: إن أبی زوجنی من إبن أخیہ، لیرفع بی خسیستَہُ، وأنا کارھۃ، قالت: إجلسی حتّٰی یأتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فجاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فأخبرتہ، فأرسل إلٰی أبیھا فدعاہ، فجعل الأمر إلیھا، فقالت: یا رسول اللہ! قد أجزتُ ما صنعَ أبی، ولٰـکن أردت أن اُعْلِمَ الناس أن لیس للآباء من الأمر شیء۔ وفی نسخۃ السماع: أردت أن أعْلَمَ، أللنساء من الأمر شیء؟ (جامع الأصول فی أحادیث الرسول ج:۱۱ ص:۴۶۴، طبع دار البیان، رقم الحدیث:۹۰۱۴)۔

