جبرواِکراہسےنکاح
زبردستیکیاگیانکاحنہیںہوا
سوال:۔
مجھے اغوا کرنے کے بعد مجھ سے زبردستی نکاح کیا گیا کہ نہ تو میرے والد اس وقت موجود تھے، اور نہ میں راضی تھی، بلکہ میں مسلسل اِنکار کرتی رہی، لیکن انہوں نے زبردستی مجھ سے دستخط لے لئے اور قاضی صاحب کو بھی دھمکی دی کہ اگر یہ نکاح نہ پڑھایا تو جان سے مار دیں گے۔ اس کے بعد میں اس لڑکے کے ساتھ کچھ دن رہی، لیکن اس نے سوائے مار پیٹ کے اور کچھ نہ کیا جو ایک بیوی کے ساتھ ہونا چاہئے، کیا یہ نکاح صحیح ہوا؟
جواب:۔
شرعاً یہ نکاح نہیں ہوا، تم پاک صاف ہو، اپنا نکاح دُوسری جگہ کرسکتی ہو، واللہ اعلم!(۱)
- (۱) وینعقد بإیجاب وقبول وضعا للمضی۔ (البحر الرائق، کتاب النکاح ج:۳ ص:۸۷)۔ لَا یجوز نکاح أحد علٰی بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرًا کانت أو ثیبًا۔۔۔ فإن فعل ذٰلک فالنکاح موقوف علٰی إجازتھا فإن أجازتہ جاز، وإن ردّتہ بطل۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۷، کتاب النکاح، الباب الرابع فی الأولیاء، طبع رشیدیہ)۔

