جبرواِکراہسےنکاح
رضامندنہہونےوالیلڑکیکابیہوشہونےپرانگوٹھالگوانا
سوال:۔
ایک لڑکی جس کی عمر تقریباً ۱۹ سال ہوگی، اس کی شادی ایک ۳۵ سال سے زیادہ عمر کے شخص سے ہوئی، اس شخص کی پہلی بیوی سے بھی اولاد تھی جو اس لڑکی سے بھی زیادہ عمر کی تھی، نکاح کے وقت جب لڑکی سے اجازت نامے پر دستخط کروانے گئے تو اس نے انکار کردیا، کیونکہ لڑکی اس شادی پر تیار نہ تھی، وہ مسلسل رو رو کر انکار کر رہی تھی، اور روتے روتے بیہوش ہوگئی، اور بیہوشی کی حالت میں اجازت نامے پر انگوٹھا لگوایا گیا، یعنی گواہوں نے ہاتھ پکڑ کر لگایا۔ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ کیا یہ نکاح ہوگیا؟ اگر نہیں تو ان کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔
نکاح کے لئے لڑکی کا اجازت دینا شرط ہے، آپ نے جو واقعات لکھے ہیں اگر وہ صحیح ہیں تو اس لڑکی کی طرف سے نکاح کی اجازت ہی نہیں ہوئی، اس لئے نکاح نہیں ہوا۔(۱)
نیز بے ہوشی کے عالم میں انگوٹھا لگوایا گیا جو معتبر نہیں۔
فی الشامیۃ: من اختل عقلہ لکبر أو لمرض أو لمصیبۃ فاجأتہ فما دام فی حال غلبۃ الخلل فی الأقوال والأفعال لَا تعتبر أقوالہ۔ (رد المحتار، مطلب فی طلاق المدھوش ج:۳ ص:۲۴۴)۔
- (۱) قولہ ولَا تجبر بالغۃ علی النکاح أی ولَا ینفذ عقد الولی علیھا بغیر رضاھا عندنا۔ (البحر الرائق، باب الأولیاء والأکفاء ج:۳ ص:۱۱۸)۔

