جبرواِکراہسےنکاح
کیاوالدینبالغہلڑکیکیشادیزبردستیکرسکتےہیں؟
سوال:۔
والدین نے لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کردی، لڑکے نے لڑکی کو خوش رکھنے کی کوشش کی، لیکن لڑکی کے دِل میں لڑکے کی جگہ نہ بن سکی، تو اس سلسلے میں لڑکے کو کیا کرنا چاہئے؟ براہ مہربانی اس کا جواب شریعت کی رُو سے ارسال فرمائیں۔
جواب:۔
عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کرنا جائز نہیں،(۱) اگر لڑکی نے والدین کے کہنے کی وجہ سے نکاح منظور کرلیا تھا تو نکاح تو ہوگیا،(۲) لیکن چونکہ دونوں میاں بیوی کے درمیان اُلفت پیدا نہیں ہوسکی اس لئے لڑکے کو چاہئے کہ اگر لڑکی خوش نہیں تو اسے طلاق دے کر فارغ کردے۔
- (۱) قالت (أی عائشۃ) سألتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الجاریۃ ینکحھا أھلھا، أتستأمر أم لَا؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: نعم، تستأمر۔ قالت عائشۃ: فقلت لہ: إنھا تستحی، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فذالک إذنھا إذا ھی سکتتْ۔ (جامع الأصول ج:۱۱ ص:۴۶۲، الفرع الثانی فی الْإستئذان والْإجبار)۔ ولَا تجبر البالغۃ البکر علی النکاح لِانقطاع الولَایۃ بالبلوغ۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب النکاح، باب الولی ج:۳ ص:۵۸)۔
- (۲) لَا یجوز نکاح أحد علی بالغۃ (إلٰی قولہ) بغیر إذنھا۔۔۔ فإن فعل ذٰلک فالنکاح موقوف علٰی إجازتھا فإن أجازتہ جاز۔ (عالمگیری، کتاب النکاح، الباب الرابع فی الأولیاء ج:۱ ص:۲۸۷، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

