بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جبر‌و‌اِکراہ‌سے‌نکاح

بالغ‌افراد‌کا‌خوف‌کے‌ذریعے‌زبردستی‌نکاح‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

بالغ افراد کا ان کی مرضی کے بغیر زبردستی یا خوف کے ذریعے نکاح کیا جائے تو نکاح ہوجائے گایا نہیں؟

جواب:۔

بغیر رضامندی کے نکاح نہیں ہوگا،(۱) اور زبردستی کرنے والے گناہگار ہوں گے۔ البتہ اگر دباؤ میں آکر اس نے قبول کرلیا تو نکاح ہوجائے گا، مگر اس طرح دباؤ دُرست نہیں، اور ایسی شادیاں پائیدار بھی نہیں ہوتیں۔(۲)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تُنکح الأیّم حتّٰی تستأمر، ولَا البکر حتّٰی تستأذن، قالوا: یا رسول اللہ! کیف إذنھا؟ قال: أن تسکت۔ أخرجہ الجماعۃ إلّا الموطأ۔ (جامع الأصول ج:۱۱ ص:۴۶۰، الفرع الثانی فی الْإستئذان والْإجبار، طبع مکتبہ دار البیان، بیروت)۔
  2. (۲) وینعقد بإیجاب وقبول۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۷، کتاب النکاح)۔ وإن استأذن الولی البکر البالغۃ فسکتت فذٰلک إذن منھا، وکذا إذا مکنت الزوج من نفسھا بعد زوجھا الولی فھو رضا ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۷)۔