نکاحپرنکاحکرنا
نکاحپرنکاحکرنااوراسسےمتعلقدُوسرےمسائل
سوال:۔
میری عمر ۳۲ سال ہے اور میں ایک پڑھی لکھی خاتون ہوں، میں گورنمنٹ اسکول میں بحیثیت معلمہ کے فرائض انجام دے رہی تھی کہ میری زندگی میں بہت بڑا سانحہ پیش آیا۔ میں نے آج تک اپنی زندگی کے متعلق کبھی سوچا بھی نہیں تھا، میرے تین بھائی ہیں، اور ہم دو بہنیں ہیں، ایک بہن کی شادی تقریباً ۲۵ سال قبل ہوئی، دُوسری میں ہوں، میری باجی عمر میں ۱۴ سال بڑی ہیں، اور تینوں بھائی مجھ سے چھوٹے ہیں۔ تو عرض کر رہی تھی کہ میں نے کبھی بھی زندگی کے متعلق سوچا تک نہ تھا کہ کیا ہوگا؟ کیسے گزرے گی؟ حالانکہ تعریف اپنی نہیں کرنی چاہئے، توبہ توبہ کرکے عرض کرتی ہوں کہ خدا نے شکل و صورت ایسی دی ہے کہ آج تک دیکھنے والے رشک کرتے ہیں اور سیرت بھی ایسی تھی کہ اس پورے علاقے میں لوگ میری مثالیں دیا کرتے تھے۔ مگر یہاں مسئلہ میرا نہیں اس معاشرے کا تھا کہ میرے ماں باپ کے پاس جہیز کے نام پر دینے کے لئے اتنا کچھ نہیں تھا کہ کوئی ڈھنگ کا رشتہ آتا، ایسے رشتے آتے جو معیار پر پورے نہ اُترتے یا جن کے مطالبے پورے نہ ہوسکتے تھے۔
پھر یکایک میری زندگی میں ایسا موڑ آیا کہ میرے بھائی تینوں جوان ہوگئے، میں تینوں کی نظر میں کانٹا بن گئی، صاف صاف الفاظ سننے میں آنے لگے کہ اس منحوس کی وجہ سے ہماری شادیاں نہیں ہو رہی ہیں، ماں کے منہ سے بھی یہی الفاظ نکلتے کہ میرے بیٹوں کا گھر نہیں بسانا چاہتی۔ پھر میں نے اپنے دِل پر پتھر رکھ لیا اور تہیہ کرلیا کہ بھائیوں کی شادی جلد اور اپنے ہاتھوں سے کرکے پھر خود بھی شادی کروں گی، لیکن اپنی ذات پر اپنے بھائیوں یا والدین کا روپیہ پیسہ نہیں لگنے دُوں گی۔ آج سے تقریباً آٹھ ماہ قبل میں نے اپنی زندگی کا ساتھی چن لیا، اور دو بھائیوں کی شادی بالترتیب ۱۷؍فروری ۱۹۸۴ء اور ۱۸؍فروری ۱۹۸۴ء کو کردی اور پھر میں نے والدین کی مرضی کے خلاف ۲۷؍فروری ۱۹۸۴ء کو شادی کرلی۔ سارے حالات اور واقعات کا علم والدین کو کردیا اور راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کے بعد میں نے اپنا حقِ شرعی اور قانونی استعمال کیا، والدین کسی بھی صورت میں راضی نہیں ہوئے اور اپنی بے انتہا کوششوں کے بعد مجبوراً پھر مجھے ۲۷؍فروری ۱۹۸۴ء کو کورٹ میرج کرنی پڑی۔ ۲۵؍فروری کو کورٹ سے باقاعدہ قانونی مختارنامہ حاصل کیا، ۲۷؍فروری ۱۹۸۴ء کو باقاعدہ چار گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ رجسٹرڈ مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا شرعی طریقے سے، اور باقاعدہ حکومتِ پاکستان کے نکاح نامے کے جو کاغذات تھے ان پر میرے اور میرے شوہر اور چار گواہوں نے دستخط کئے اور کاغذات باقاعدہ رجسٹرڈ ہوئے۔
ٹھیک چوتھے دن یعنی یکم مارچ ۱۹۸۴ء کو میرے گھر والوں کو علم ہوگیا، میں نوکری کرتی تھی لیکن میرے گھر والوں نے زبردستی مجھے مارا پیٹا، گردن پر چھری رکھ کر ۳؍مارچ ۱۹۸۴ء کو میرا استعفیٰ لکھواکر میرے دستخط کراکر میری نوکری ختم کرائی، پھر میرے شوہر سے ۵؍مارچ ۱۹۸۴ء کو طلاق نامے پر اس کے گھر والوں سے زبردستی دباؤ ڈلواکر طلاق نامے پر دستخط کرائے، مجھے معلوم نہیں کیسے کرائے گئے، میں اس دن سے گھر پر ہوں، نوکری ختم ہوگئی ہے، ہمارا نکاح صرف ۸ دن رہا، میں ان دنوں سے حکمِ خداوندی کے تحت عدّت کے دن گھر پر گزار رہی ہوں۔ میرے والدین اور بھائیوں کا کہنا ہے کہ کورٹ سے نکاح کوئی نکاح نہیں ہوا۔ حالانکہ میں نے یہ نکاح بخوشی اور اپنی مرضی سے کیا تھا، اس میں کسی قسم کا جبر یا تشدّد نہیں تھا۔ والد صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے ایک مولوی سے پوچھا ہے تو انہوں نے کہا ہے کہ کورٹ میرج کوئی شادی نہیں ہوتی، اس لئے اس کا نکاح فوری کہیں بھی ہوسکتا ہے، لیکن میں نے یہ دلیل دے کر گھر والوں کو قائل کیا کہ اگر یہ شادی، شادی نہ تھی تو آپ لوگوں کو طلاق کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بھائی نے طلاق کی نقل باقاعدہ کورٹ میں نکاح نامے کے ساتھ منسلک تک کرائی ہے اور ایک نقل کونسلر صاحب کے دفتر میں جمع کرائی ہے۔ میں دن رات روتی رہتی ہوں اور میرا دِل یقین ہی نہیں کرتا کہ مجھے طلاق ہوئی ہے، جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے خدا کسی دُشمن کے ساتھ بھی نہ کرے، آمین۔ میرے ذہن میں مندرجہ ذیل سوالات اُبھر رہے ہیں، اُمید ہے کہ آپ نمبروار سوالوں کا جواب دے کر مجھے مطمئن ضرور کریں گے اور ان سوالوں کا جواب جلد تحریر کریں گے، کیونکہ میں پھر دوبارہ نوکری کی تلاش کرنا چاہتی ہوں۔
سوال:۔
کیا کورٹ میرج کے طریقے پر نکاح جائز ہے؟ جس میں تمام شرعی تقاضے پورے کئے گئے ہوں؟
سوال:۔
کیا صرف زبردستی طلاق نامے پر دستخط کرالینے سے طلاق ہوجاتی ہے یا زبان سے طلاق کا لفظ تین بار نکالنے سے ہوتی ہے؟
سوال:۔
ہوسکتا ہے کہ زبان سے یہ الفاظ نہ کہے ہوں اور طلاق نامہ پر دُوسروں کے کہنے پر دستخط کردئیے ہوں، ایسی صورتِ حال پیش آئی ہو تو کیا طلاق ہوگئی یا نہیں؟
سوال:۔
میرے گھر والے عدّت کے دنوں کے اندر دُوسری جگہ نکاح کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ جائز ہوگا؟
سوال:۔
میرے گھر والے دُوسری جگہ جو نکاح کرنا چاہتے ہیں وہ ان لوگوں کو پہلے نکاح کا ہرگز نہیں بتارہے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
سوال:۔
عدّت کی مدّت کتنا عرصہ ہے؟ سنا ہے ۳ ماہ ۱۰ دن ہے، کیا یہ دُرست ہے؟
جواب:۔
اگر لڑکا اور لڑکی جوڑ کے ہوں تو یہ نکاح صحیح ہے، ورنہ نہیں۔(۱)
جواب:۔
اگر طلاق نامہ کسی اور نے لکھا ہو اور زبردستی اس پر دستخط کرائے جائیں تو اس سے طلاق نہیں ہوتی،(۲) اور اگر طلاق نامہ خود شوہر نے لکھا ہو،(۳) یا زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کئے ہوں تو طلاق ہوجاتی ہے۔(۴)
جواب:۔
اگر اپنی خوشی سے دستخط کئے ہوں تو طلاق ہوجائے گی،(۵) زبردستی دستخط لینے سے طلاق نہیں ہوتی۔(۶)
جواب:۔
آپ کے مسئلے کی تین صورتیں ہیں:
۱:۔ جو نکاح آپ نے والدین کی اجازت کے بغیر کیا تھا اگر وہ غیرکفو میں تھا تو وہ نکاح نہیں ہوا، مگر چونکہ نکاح کے شبہ میں صحبت ہوچکی ہے، اس لئے عدّت لازم ہے،(۷) چنانچہ عدّت سے پہلے دُوسرا نکاح ہرگز جائز نہیں۔(۸)
۲:۔ اور اگر پہلا نکاح کفو میں ہوا تھا اور طلاق نامے پر زبردستی دستخط لئے گئے تھے، تو چونکہ طلاق نہیں ہوئی، اس لئے پہلا نکاح باقی ہے، لہٰذا دُوسرا نکاح نہیں ہوسکتا۔(۹)
۳:۔ اور اگر پہلا نکاح کفو میں ہوا تھا، اور طلاق بھی صحیح طریقے سے لی گئی تھی تو طلاق کی عدّت گزارنا لازم ہے، عدّت پوری ہونے سے پہلے دُوسرا نکاح نہیں ہوسکتا۔(۱۰)
جواب:۔
پہلی اور تیسری صورت میں عورت پر عدّت لازم ہے اور عدّت سے پہلے دُوسرا نکاح ہرگز جائز نہیں، بہرحال آپ کے والدین جہاں آپ کا عقد کرنا چاہتے ہیں ان کو اس تمام صورتِ حال سے آگاہ کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ نادانستہ اس حرام میں مبتلا نہ ہوں، اور دُوسری صورت میں چونکہ پہلا نکاح بدستور باقی ہے، اس لئے عدّت کا یا دُوسرے نکاح کا سوال ہی غلط ہے۔
جواب:۔
طلاق کی عدّت تین حیض ہے،(۱۱) تین بار ایام سے پاک ہونے سے عدّت پوری ہوجاتی ہے، تین ماہ دس دن عدّت نہیں۔
- (۱) ان المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء، وإن زوّجت من غیر کفؤ لَا یلزم أو لَا یصح۔ (رد المحتار، کتاب النکاح، باب الکفائۃ ج:۳ ص:۸۴، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) رجل أکرہ بالضرب والحبس علٰی أن یکتب طلاق امرأتہ وکتب فلانۃ بنت فلان طالق، لَا تطلق إمرأتہ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ، کتاب الطلاق ج:۲ ص:۹۱)۔
- (۳) وإن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی أو لم ینو ثم المرسومۃ لَا تخلو اما إن أرسل الطلاق بأن کتب: أما بعد فأنت طالق، فکما کتب ھٰذا یقع الطلاق، وتلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۷۸)۔
- (۴) ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولو عبدًا أو مکرھًا فإن طلاقہ صحیح۔ وفی البحر: إن المراد الْإکراہ علی التلفظ بالطلاق۔ (شامی، مطلب فی الْإکراہ إلخ ج:۳ ص:۲۳۵)۔
- (۵) لو استکتب من آخر کتابًا بطلاقھا وقرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج وختمہ وعنونہ وبعث بہ إلیھا فأتاھا وقع إن أقرّ الزوج أنہ کتابہ۔ (رد المحتار، مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج:۳ ص:۲۴۶، ۲۴۷، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۶) فلو اکرہ علٰی أن یکتب طلاق إمرأتہ فکتب لَا تطلق۔ (شامی، مطلب فی الْإکراہ إلخ ج:۳ ص:۳۲۶)۔
- (۷) لو وطئھا بشبھۃ وجب علیھا العدۃ۔ (رد المحتار، مطلب فیما لو زوّج المولی أمَتہ ج:۳ ص:۵۰)۔
- (۸) لَا یجوز للرجل أن یتزوّج زوجۃ غیرہ وکذٰلک المعتدۃ کذا فی السراج الوھاج سواء کانت العدۃ عن طلاق (إلٰی قولہ) أو شبھۃ نکاح کذا فی البدائع۔ (عالمگیری، المحرمات التی یتعلق بھا حق الغیر ج:۱ ص:۲۸۰، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
- (۹) أیضًا۔
- (۱۰) أیضًا۔
- (۱۱) قال تعالٰی: ﵟ وَٱلۡمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٖۚ ﵞ البقرة ٢٢٨۔

