بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نکاح‌پر‌نکاح‌کرنا

جھوٹ‌بول‌کر‌طلاق‌کا‌فتویٰ‌لینے‌والی‌عورت‌دُوسری‌جگہ‌شادی‌نہیں‌کرسکتی

سوال:۔

میرے دوست ’’ف‘‘ کی شادی ایک سال قبل اس کی چچازاد بہن ’’ن‘‘ سے ہوئی، جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک اچھے ادارے میں اعلیٰ پوسٹ پر کام کرتی ہے، جبکہ ’’ف‘‘ ایک کلرک کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ یہ شادی ’’ف‘‘ اور ’’ن‘‘ کی باہمی رضامندی اور پسند کے ساتھ ساتھ گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد پیسہ، روپیہ اور اعلیٰ معیار کا مسئلہ ’’ن‘‘ اور ’’ن‘‘ کے گھر والوں کی طرف سے شروع ہوا۔ ’’ف‘‘ کی آمدنی محدود تھی، اس لئے وہ لڑکی اور ان کے گھر والوں کی خواہش کے مطابق سامانِ آرائش و زیبائش فراہم نہ کرسکا۔ اس پر ’’ن‘‘ ناراض ہوکر اپنے والدین کے گھر چلی گئی، جب ’’ف‘‘ نے ’’ن‘‘ سے رُجوع کیا تو ’’ن‘‘ نے کہا کہ: آپ ابھی اپنی تعلیم مکمل کریں اور اپنے اعلیٰ معیار کو بڑھائیں۔ اور کہا کہ: آپ امتحان سے فارغ ہوجائیں تو پھر میں آپ کے پاس آؤں گی۔ ’’ف‘‘ اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگیا، اسی دوران ’’ن‘‘ نے ایک خط دارالافتاء کے نام ارسال کیا جس کا متن یہ ہے کہ: ’’میرے شوہر نے مجھے مارپیٹ کر گھر سے نکال دیا اور نکالتے وقت یہ الفاظ بار بار کہے: جاؤ میں نے تمہیں آزاد کیا۔‘‘ جس پر مولانا صاحب نے فتویٰ دیا کہ: ’’اگر آپ کے شوہر نے یہ الفاظ بار بار کہے تو طلاق ہوگئی، اور آپ ایک دُوسرے کے لئے حرام ہوگئے۔‘‘ یہ فتویٰ حاصل کرنے کے بعد ’’ن‘‘ نے علاقے کے چیئرمین پنچایت کمیٹی کو درخواست دی کہ مجھے اس فتویٰ کی رُو سے طلاق ہوچکی ہے، لہٰذا مجھے مہر دِلوایا جائے اور ساتھ ہی عدّت کے اخراجات بھی۔ پنچایت کمیٹی کے سمن پر ’’ف‘‘ نے حاضری دی تو چیئرمین نے ’’ف‘‘ سے حقیقت دریافت کی تو ’’ف‘‘ نے حلفیہ بیان دیا کہ میں نے نہ تو ’’ن‘‘ کو گھر سے نکالا اور نہ ہی ایسے الفاظ کہے۔ اس پر طے پایا کہ ’’ن‘‘ کو پنچایت کمیٹی کے سامنے حاضر کیا جائے اور دونوں کے بیان قلم بند ہوں گے۔ مگر ’’ن‘‘ چیئرمین پنچایت کمیٹی کے سامنے حاضر نہ ہوئی۔ جنابِ والا! میرا دوست اس مسئلے کی وجہ سے بہت پریشان ہے، آپ سے گزارش ہے کہ آپ قرآن و سنت سے اس کی رہنمائی کریں:

الف:۔ کیا لڑکی کی غلط بیانی سے لیا ہوا فتویٰ قابلِ قبول ہے؟

ب:۔ کیا اس فتویٰ کی رُو سے طلاق ہوگئی؟

ج:۔ قرآن و سنت کی روشنی میں غلط بیانی سے فتویٰ حاصل کرنے والے کی کیا حیثیت ہے؟

د:۔ کیا لڑکی اس فتویٰ کے بعد دُوسری شادی کرسکتی ہے؟

جواب:۔

مفتی کا جواب سوال کے مطابق ہوتا ہے، مفتی کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ سوال میں واقعات صحیح بیان کئے گئے ہیں یا غلط؟ یہ تحقیق کرنا عدالت کا کام ہے۔ آپ نے جو کہانی لکھی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت طلاق دینے کا دعویٰ کرتی ہے اور شوہر اس سے انکار کرتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان جب یہ اختلاف ہو تو بیوی اگر دو ثقہ اور قابلِ اعتبار گواہ پیش کردے جو حلفاً شہادت دیں کہ ان کے سامنے شوہر نے طلاق دی ہے تو عورت کا دعویٰ دُرست تسلیم کیا جائے گا، اور اگر طلاق پر دو گواہ پیش نہ کرسکے تو شوہر سے حلفاً پوچھا جائے کہ اس نے طلاق دی ہے یا نہیں؟ اگر وہ حلفاً کہے کہ اس نے طلاق نہیں دی تو عورت کا دعویٰ جھوٹا ہوگا اور شوہر کی یہ بات صحیح ہوگی کہ اس نے طلاق نہیں دی۔(۱) آپ کے مسئلے میں چونکہ بیوی کے پاس گواہ نہیں، لہٰذا اس کا دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں، وہ بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں ہے، دُوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔

  1. (۱) ویسأل القاضی المدعٰی علیہ عن الدعویٰ فیقول انہ ادعی علیک کذا فماذا تقول ۔۔۔إلخ۔ فإن أقرّ فبھا أو أنکر فبرھن المدعی قضی علیہ بلا طلب المدعی وإلّا یبرھن حلفہ الحاکم بعد طلبہ۔ (رد المحتار، کتاب الدعویٰ ج:۵ ص:۵۴۸)۔