بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نکاح‌پر‌نکاح‌کرنا

لڑکی‌کی‌لاعلمی‌میں‌نکاح‌کا‌حکم

سوال:۔

ایک لڑکی جس کا والد تقریباً دس سال پہلے وفات پاچکا ہے اور اس کی والدہ نے اس کا رِشتہ اپنے رشتہ داروں میں کیا، منگنی وغیرہ کی رسم ہوئی، کچھ عرصہ بعد والدہ کسی لالچ کی وجہ سے منگنی توڑ کر رِشتہ دُوسری جگہ کرنا چاہتی تھی تو لڑکی نے انکار کردیا کہ میں اپنی عزّت سرِعام نیلام نہیں کروں گی۔ اسے دھمکیاں دی گئیں، مارا پیٹا بھی مگر لڑکی برابر اِنکار ہی کرتی رہی، اور آخر کار ایک دن زبردستی نکاح نامے پر دستخط کے بجائے (نشان) انگوٹھا لگوالیا، جس کا لڑکی کو کوئی علم ہی نہ تھا، لڑکی پڑھی لکھی تھی، رُخصتی وغیرہ نہیں ہوئی تھی، اب جبکہ عیدالاضحی کے بعد رُخصتی کرنا چاہتے تھے تو لڑکی اپنے پہلے والے رشتہ داروں کے پاس آگئی اور وہاں آکر کورٹ میں حلف نامہ لکھواکر نکاح کرلیا ہے، کیونکہ پہلے والے نکاح کا تو لڑکی کو کوئی علم ہی نہ تھا، نہ ہی اس نے قبول کیا تھا، اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالیں کہ کیا پہلے والا نکاح تھا یا نہیں؟

جواب:۔

اگر لڑکی پڑھی لکھی تھی تو نکاح نامے پر اس کا انگوٹھا کیسے لگوالیا گیا اور اس کو علم کیسے نہیں ہوا؟ یہ بات تحقیق طلب ہے۔ اگر تحقیق سے ثابت ہوجائے کہ لڑکی کو واقعی نکاح کئے جانے کا علم نہیں تھا، نہ اس نے نکاح کو قبول کیا تو وہ نکاح نہیں ہوا۔(۱) اور اگر مارپیٹ کر صرف دستخط کرائے گئے، یا انگوٹھا لگوالیا گیا، جبکہ لڑکی اس نکاح پر رضامند نہیں تھی تب بھی نکاح نہیں ہوا۔(۲) لہٰذا لڑکی کا وہ نکاح، جو اس نے پہلی منگنی کی جگہ کیا صحیح ہے۔(۳)

  1. (۱) لَا یجوز نکاح أحد علٰی بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرًا کانت أو ثیبًا فإن فعل ذٰلک فالنکاح موقوف علٰی إجازتھا فإن أجازتہ جاز وإن ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۷)۔
  2. (۲) ولَا تجبر البالغۃ البکر علی النکاح لِانقطاع الولَایۃ بالبلوغ۔ (در مختار، کتاب النکاح، باب الولی ج:۳ ص:۵۸، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
  3. (۳) ان المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء۔ (رد المحتار، باب الکفائۃ ج:۳ ص:۸۴)۔