نکاحپرنکاحکرنا
نکاحپرنکاحکوجائزسمجھناکفرہے
سوال:۔
ایک عورت جس کے شوہر عرصہ پندرہ سال سے انڈیا میں رہتے ہیں، اس عورت نے پاکستان میں کسی دُوسرے شخص سے نکاح کرلیا ہے، جبکہ پہلے شوہر نے طلاق نہیں دی ہے، اس میں بھی کئی اشخاص شامل تھے جبکہ دُوسری مرتبہ نکاح پڑھوایا اور ان لوگوں کو علم بھی ہے کہ پہلے شوہر نے طلاق نہیں دی ہے، اس کے متعلق بھی یہی سنا ہے کہ نکاح میں شامل ہونے والوں کا نکاح ٹوٹ گیا ہے۔ کیا یہ شادی دُرست ہے؟ کیا ان لوگوں کا نکاح فسخ ہوگیا؟ اور اگر شوہر لاپتہ ہوجائے تو کتنے عرصے کے بعد عورت نکاح کرے؟ یا علم بھی ہو اور شوہر طلاق نہ دیتا ہو تو بھی عورت کتنے عرصے کے بعد نکاح کرسکتی ہے؟
جواب:۔
جو عورت کسی کے نکاح میں ہو جب تک وہ اسے طلاق نہ دے اور اس کی عدّت نہ گزر جائے دُوسری جگہ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا۔(۱) اس کو جائز سمجھ کر دُوسرے نکاح میں شریک ہونے والے اسلام سے خارج ہوگئے،(۲) ان کو لازم ہے کہ توبہ کریں اور اپنے ایمان و نکاح کی تجدید کریں۔(۳)
جس عورت کا شوہر لاپتہ ہوگیا ہو اس کو چاہئے کہ عدالت سے رُجوع کرے، عدالت میں اپنے نکاح کا ثبوت اور شوہر کی گمشدگی کا ثبوت پیش کرے۔ اس ثبوت کے بعد عدالت اس عورت کو مزید چار سال انتظار کرنے کا حکم دے، اور اس دوران اس کے لاپتہ شوہر کا پتہ چلانے کی کوشش کرے، اگر اس عرصے میں شوہر کا سراغ نہ مل سکے تو عدالت اس کی موت کا فیصلہ کردے۔ اس فیصلے کے بعد عورت اپنے شوہر کی موت کی عدّت (چار مہینے دس دن) پور کرے، عدّت پوری ہونے کے بعد یہ عورت دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے، لیکن جب تک عدالت سے اس کے لاپتہ شوہر کی موت کا فیصلہ نہ کرالیا جائے، عورت دُوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔
جو شوہر نہ تو اپنی بیوی کو آباد کرتا ہو، نہ اسے طلاق دیتا ہو، وہ عورت عدالت سے رُجوع کرے اور عدالت تحقیق و تفتیش کے بعد شوہر کو حکم دے کہ وہ یا تو دستور کے مطابق بیوی کو آباد کرے، یا اسے طلاق دے دے، اگر وہ کسی بات پر بھی آمادہ نہ ہو تو عدالت، شوہر یا اس کے وکیل کی موجودگی میں ’’فسخِ نکاح‘‘ کا خود فیصلہ کردے، اس فیصلے کے بعد عورت عدّت گزارے، عدّت کے بعد عورت دُوسری جگہ نکاح کرسکے گی۔(۴)
- (۱) اما نکاح منکوحۃ الغیر (إلٰی قولہ) لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد أصلًا۔ (رد المحتار، مطلب فی النکاح الفاسد ج:۳ ص:۱۳۲)۔
- (۲) من اعتقد الحرام حلالًا (إلٰی قولہ) إن کان دلیلہ قطعیًّا کفر۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳)۔
- (۳) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔ (شامی ج:۴ ص:۲۴۷)۔
- (۴) دیکھئے رسالہ: ’’الحیلۃ الناجزۃ‘‘ للتھانوی ص:۵۹۔

