نکاحپرنکاحکرنا
کسیدُوسرےکیمنکوحہسےنکاح،نکاحنہیںبدکاریہے
سوال:۔
میرے دو بچے ہیں، ۱۲ سال قبل شادی ہوئی تھی، مجھ سے پہلے میری بیوی کی شادی ایک دُوسرے شخص سے ہوئی تھی، اس شخص کو ایک مقدمے میں ۱۶ سال سزائے قید ہوگئی تھی، دو سال کے بعد میں نے اس کی بیوی سے عدالت میں نکاح کرلیا، جبکہ پہلے شوہر نے ابھی تک طلاق نہیں دی۔ اُس سے بھی میری بیوی کے چار بچے ہیں۔ اب اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ہے کہ مجھ پر ظلم ہوا ہے۔ خدا کے لئے قرآن کی روشنی میں بتائیے کہ یہ میری بیوی ہے یا پہلے شوہر کی؟ یا اب ہم کیا کریں؟
جواب:۔
یہ تو ظاہر ہے کہ جب یہ عورت پہلے ایک شخص کی منکوحہ ہے اور اس نے طلاق نہیں دی تو یہ عورت اُسی کی بیوی ہے، اور یہ مسئلہ ہر عام و خاص کو معلوم ہے کہ جو عورت کسی کے نکاح میں ہو اس سے دُوسرے کا نکاح نہیں ہوسکتا۔(۱) اس لئے یہ عورت آپ کی بیوی نہیں، بلکہ پہلے شوہر کی بیوی ہے، آپ اس کو علیحدہ کردیں، اور وہ عدّت گزار کر پہلے شوہر کے پاس چلی جائے یا پہلے شوہر سے طلاق لے لی جائے، اور عدّت گزرنے کے بعد آپ اس سے دوبارہ صحیح نکاح کریں۔(۲)
قال فی البحر: لو تزوّج بامرأۃ الغیر عالمًا بذٰلک ودخل بھا لَا تجب العدّۃ علیھا حتّٰی لَا یحرم علی الزوج وطؤھا وبہ یفتٰی (إلٰی قولہ) نعم لو وطئھا بشبھۃ وجب علیھا العدّۃ وحرم علی الزوج وطؤھا۔ (رد المحتار، مطلب فیما لو زوّج المولی أمَۃ ج:۳ ص:۵۰)۔ وفیہ أیضًا: أما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدۃ فالدخول فیہ لَا یوجب العدۃ ان علم أنھا للغیر لأنہ لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد أصلًا۔ (رد المحتار، مطلب فی النکاح الفاسد ج:۳ ص:۱۳۲)۔
- (۱) اما نکاح منکوحۃ الغیر (إلٰی قولہ) لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد أصلًا۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۱۳۲)۔
- (۲) یہ تب ہے جب ناکح ثانی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ عورت منکوحہ ہے، اور اگر اس کے منکوحہ ہونے کے علم کے باوجود نکاح کرلیا، تو اَب نکاح بھی باطل اور عدّت بھی واجب نہیں۔

