جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
ماںشریکبہنبھائیوںکانکاحآپسمیںجائزنہیں
سوال:۔
ایک بیوہ (سلمیٰ) کا ایک بیٹا ہے، سلمیٰ نے دُوسری شادی کرلی، دُوسرے شوہر سے سلمیٰ کی ایک لڑکی پیدا ہوئی، ایک مولانا کا کہنا ہے کہ اس عورت (سلمیٰ) کے پہلے شوہر سے جو لڑکا اور دُوسرے شوہر سے جو لڑکی پیدا ہوئی ان دونوں کا نکاح آپس میں جائز ہے، گویا ایک عورت سے جنم لینے کے باوجود باپ کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے ان کا نکاح آپس میں جائز ہے۔
جواب:۔
مولانا صاحب نے کوئی اور مسئلہ بیان کیا ہوگا، جس کو آپ نے سمجھا نہیں۔ سلمیٰ کا لڑکا اور لڑکی تو دونوں ماں شریک بہن بھائی ہیں، ان کا نکاح کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور کوئی عالمِ دِین اس کا فتویٰ کیسے دے سکتا ہے؟

