جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
دوبہنوںسےشادیکرنےوالےکیدُوسریبیویکیاولادکاحکم
سوال:۔
کیا ایک مسلمان مرد کے لئے بیک وقت دو سگی (حقیقی) بہنوں سے نکاح جائز ہے؟ اور اگر کسی صاحب نے اپنی پہلی بیوی کی زندگی میں اپنی سگی سالی سے نکاح کرلیا ہو تو کیا ان دونوں کے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد جائز ہوگی؟
جواب:۔
بیک وقت دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے،(۱) اگر کسی نے نکاح کرلیا اور اولاد بھی ہوگئی تو دونوں بہنوں کی اولاد جائز اور ثابت النسب ہوگی، پہلی بہن کی اولاد تو نکاحِ صحیح میں پیدا ہوئی اس لئے اس کا نسب ثابت ہے، اور دُوسری بہن کے ساتھ جو نکاح ہوا ہے یہ نکاح فاسد ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ اس نکاحِ فاسد کی وجہ سے اولاد پیدا ہوئی وہ ثابت النسب ہے،(۲) لیکن دونوں کے درمیان تفریق ضروری اور لازمی ہے، تفریق کے بعد عورت کے ذمہ عدّت واجب ہے اور مرد کے ذمہ پورا مہر دینا واجب ہے۔(۳)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ ـــ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ ﵞ النساء ٢٣۔
- (۲) النکاح الصحیح وما ھو فی معناہ من النکاح الفاسد والحکم فیہ انہ یثبت النسب من غیر دعوۃ۔ (عالمگیری، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب ج:۱ ص:۵۳۶)۔
- (۳) وإن تزوّجھما فی عقدتین فنکاح الأخیرۃ فاسد ویجب علیہ ان یفارقھا (إلٰی قولہ) فإن فارقھا بعد الدخول فلھا المھر ویجب الأقل من المسمی ومن مھر المثل وعلیھا العدّۃ ویثبت النسب۔ (عالمگیری، المحرمات بالجمع ج:۱ ص:۲۷۷)۔

