بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

بیوی‌کی‌بہن‌سے‌شادی‌نہیں‌ہوتی،‌اگر‌مرد‌جائز‌سمجھتا‌ہے‌تو‌کفر‌کیا‌اور‌پہلا‌نکاح‌کالعدم‌ہوگیا

سوال:۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک عزیز جنھوں نے عرصہ سات سال قبل شادی کی تھی، اور جس لڑکی سے انہوں نے شادی کی تھی اس کی ایک بڑی بہن تھی، وہ بھی شادی شدہ اور سات بچوں کی ماں تھی، کچھ عرصے بعد یہ انکشافات ہونے لگے کہ وہ حضرت اسی بڑی بہن کو پسند کرنے لگے اور اس عورت نے اپنے پہلے شوہر سے اس وجہ سے علیحدگی اختیار کرلی، اب دونوں آزادی سے ملنے بھی لگے، اور اب معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں نے نکاح بھی کرلیا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ آیا ان کا یہ نکاح جائز ہے یا ناجائز؟ کیونکہ میں نے کسی سے سنا تھا کہ دُوسرے نکاح کے بعد ان کی پہلی بیوی بھی نکاح سے خارج ہوگئی، شرعی طور پر کیا یہ سچ ہے؟ کیا دو سگی بہنوں سے ایک وقت میں نکاح جائز ہے یا دونوں سے حرام ہو رہا ہے؟

جواب:۔

ایک بہن کی موجودگی میں دُوسری بہن سے نکاح نہیں ہوتا، اس لئے دُوسری بہن سے جو ان صاحب نے نکاح رچایا یہ نکاح فاسد ہے،(۱) اس کی پہلی بیوی اس کے نکاح میں ہے، لیکن اگر اس نے دو بہنوں کا ایک نکاح میں جمع کرنا جائز اور حلال سمجھا تھا تو یہ شخص اسلام سے خارج ہوگیا(۲) اور اس کا پہلا نکاح بھی کالعدم ہوگیا۔(۳)

  1. (۱) وإن تزوجھما فی عقدتین فنکاح الأخیرۃ فاسد۔ (عالمگیری، المحرمات بالجمع ج:۱ ص:۲۷۷)۔
  2. (۲) من اعتقد الحرام حلالًا (إلٰی قولہ) إن کان دلیلہ قطعیًّا کفر۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳، طبع سعید)۔
  3. (۳) وارتداد أحدھما فسخ عاجل بلا قضاء۔ (درمختار، باب النکاح الکافر ج:۳ ص:۱۹۴، طبع سعید)۔