بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

ایک‌وقت‌میں‌دو‌بہنوں‌سے‌شادی‌حرام‌ہے

سوال:۔

ایک شخص نے اپنی بیوی کی بہن سے نکاح کیا، تو کیا شرعاً بیک وقت دو سگی بہنوں سے نکاح جائز ہے؟ کیا دُوسری بہن سے نکاح کرنے کے بعد پہلی بہن کا نکاح رہے گا یا دُوسری بہن کا نکاح نہ ہوگا؟ ایسے ناجائز نکاح میں شرکت کرنے والوں اور حصہ لینے والوں پر کوئی پابندی عائد ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب:۔

بیک وقت دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تم پر حرام کردیا گیا دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا‘‘،(۱) دُوسری بہن کا نکاح ہوا ہی نہیں،(۲) اس لئے پہلی بیوی کا نکاح باقی ہے۔ جو لوگ دیدہ و دانستہ اس ناجائز نکاح میں شریک ہوئے وہ سخت گنہگار ہوئے،(۳) ان کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و اِستغفار کریں، البتہ جو لوگ لاعلمی کی بنا پر شریک ہوئے ان پر کوئی گناہ نہیں۔(۴)

  1. (۱) قال تعالٰی:ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ ـــ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ ﵞ النساء ٢٣۔
  2. (۲) وإن تزوجھما فی عقدتین فنکاح الأخیرۃ فاسد۔ (عالمگیری، کتاب النکاح، المحرمات بالجمع ج:۱ ص:۲۷۷)۔
  3. (۳) ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢ ﵞ المائدة ٢۔
  4. (۴) ﵟ لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ ﵞ البقرة ٢٨٦۔