بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

بیوی‌کی‌موجودگی‌میں‌اس‌کی‌سوتیلی‌بھتیجی‌سے‌بھی‌نکاح‌جائز‌نہیں

سوال:۔

زید کی بیوی کا ایک مادرزاد سوتیلا بھائی ہے، یعنی زید کا سوتیلا سالا ہوا، اب سوال یہ ہے کہ اس سوتیلے سالے کی لڑکی زید کے نکاح میں شرعی طور پر آسکتی ہے؟ جبکہ زید کی بیوی بھی موجود ہے۔

سوال:۔

اگر زید کی موجودہ بیوی فوت ہوجائے یا طلاق ہوجائے تو پھر زید کا سالا جس کا ذکر اُوپر کے سوال میں کیا گیا ہے، اس کی لڑکی زید کے نکاح میں آسکتی ہے یا نہیں؟

جواب:۔

بیوی کی موجودگی میں اس کی بھتیجی سے نکاح نہیں ہوسکتا، خواہ سگے بھائی کی بیٹی ہو یا سوتیلے بھائی کی۔(۱)

جواب:۔

بیوی کو طلاق ہوجائے اور اس کی عدّت بھی ختم ہوجائے یا بیوی مرجائے تو اس کی بھتیجی سے نکاح جائز ہے۔(۲)

قال تعالٰی: ﵟ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ ﵞ النساء ٢٤۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یجمع بین المرأۃ وعمّتھا ولَا بین المرأۃ وخالتھا۔ (بخاری ج:۲ ص:۷۶۶، باب لَا تنکح المرأۃ علٰی عمّتھا)۔
  2. (۲) کیونکہ اب کوئی وجہ حرمت نہیں رہی،