بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

بیوی‌کی‌موجودگی‌میں‌سالی‌سے‌نکاح‌فاسد‌ہے

سوال:۔

ایک شخص اپنی سالی کو دھوکے سے عدالت لے گیا، عدالت میں جاکر جبراً ایک بانڈ (فارم) پر دستخط کرائے اور عدالت میں نکاح کرلیا، کیا یہ ممکن ہے کہ بیک وقت دو بہنیں ایک ہی شخص کے نکاح میں رہیں؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:۔

بیوی کی موجودگی میں سالی سے نکاح فاسد ہے،(۱) کیونکہ دو بہنوں کو ایک شخص بیک وقت اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ قرآنِ کریم اور حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے، اور باجماعِ اُمت دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔(۲) لہٰذا اس شخص کو لازم ہے کہ سالی کو علیحدہ کردے، اور یہ شخص جب تک سالی سے علیحدگی اختیار نہ کرلے تب تک بیوی سے ازدواجی تعلق حرام ہے۔

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ـــ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ ﵞ النساء ٢٣۔ أما فی الحدیث: أن اُمّ حبیبۃ قالت: قلت: یا رسول اللہ! انکح اُختی بنت أبی سفیان۔۔۔ (قال علیہ السلام) فلا تعرض علی بناتکن ولَا أخواتکن۔ قال المحشی: الجمع بین الاُختین فی التزویج حرام بالْإجماع۔ (الصحیح للبخاری، باب قولہ وأن تجمعوا بین الأختین ۔۔۔إلخ ج:۱ ص:۷۶۶)۔
  2. (۲) أیضًا۔