بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

پھوپھی‌اور‌بھتیجی‌کو‌نکاح‌میں‌جمع‌کرنا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

میں نے بیوی کی اجازت سے اس کی بھتیجی سے نکاح کرلیا، اس سے دو بچے بھی ہوگئے، دونوں بیویاں اکٹھی رہتی ہیں، ان میں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں۔ میرے علم میں نہیں تھا کہ بیوی کی موجودگی میں اس کی بھتیجی سے ایک حدیث کی رُو سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ کیا یہ حدیث واقعی مصدقہ ہے یا نہیں؟ آپ مجھے بتائیں کہ کیا کرنا چاہئے؟

جواب:۔

پھوپھی اور بھتیجی کو اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے، اس پر بہت سی احادیث موجود ہیں،(۱) اور صحابہؓ، تابعینؒ اور اَئمہ ہدیٰ کا اس پر اِجماع ہے،(۲) اس لئے آپ نے اپنی بیوی کی بھتیجی سے جو نکاح کیا وہ نکاح باطل ہے۔(۳) آپ اس سے توبہ کیجئے اور اپنی دُوسری بیوی کو فوراً الگ کردیجئے۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یجمع بین المرأۃ وعمّتھا ولَا بین المرأۃ وخالتھا۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۶۶، باب لَا تنکح المرأۃ علٰی عمّتھا)۔
  2. (۲) والتحقت بہ بالسُّنَّۃ والْإجماع حرمۃ الجمع بین إمرأۃ وعمّتھا وامرأۃ وخالتھا۔ (التفسیر المظھری ج:۲ ص:۶۲)۔
  3. (۳) نعم فی البزازیۃ قولین ان نکاح المحارم باطل أو فاسد والظاھر ان المراد بالباطل ما وجودہ کعدمہ (إلٰی قولہ) وفسر القھستانی ھنا الفاسد بالباطل۔ (رد المحتار، مطلب فی النکاح الفاسد ج:۳ ص:۱۳۲)۔