جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
دامادپرساس،ماںکیطرححرامہے
سوال:۔
ایک آدمی کی بیوی مرگئی تو وہ اپنی بیوہ ساس کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
جس عورت سے نکاح ہوجائے (خواہ وہ عورت اس مرد کے گھر آباد بھی نہ ہوئی ہو) نکاح ہوتے ہی اس کی ماں اس مرد پر حرام ہوجاتی ہے، جس طرح اپنی ماں حرام ہے۔ لہٰذا بیوی کی ماں سے نکاح نہیں ہوسکتا۔(۱) ہاں! بیوی کی سوتیلی ماں سے نکاح ہوسکتا ہے۔(۲)
- (۱) فیحرم علی الرجل أم زوجتہ بنص الکتاب العزیز، وھو قولہ عزّ وجلّ: ﵟ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمۡ ﵞ، معطوفًا علٰی قولہ عزّ وجل: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡﵞ، سواء کان دخل بزوجتہ أو کان لم یدخل بھا عند عامۃ العلماء۔۔۔ وروی عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: إذا نکح الرجل إمرأۃ ثم طلقھا قبل أن یدخل بھا فلہ أن یتزوج إبنتھا، ولیس لہ أن یتزوج الأم وھٰذا نص فی مسئلتین۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۵۸، کتاب النکاح، وأما النوع الثانی)۔ وتثبت حرمۃ المصاھرۃ بالنکاح الصحیح دون الفاسد کذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۷۳)۔
- (۲) (قولہ: وبین إمرأتین أیۃ فرضت ذکرًا حرم النکاح) أی حرم الجمع بین إمرأتین إذا کانتا بحیث لو قدرت إحداھما ذکرًا حرم النکاح بینھما، أیتھما کانت المقدرۃ ذکرًا۔۔۔ وقید بقولہ: ’’أیۃ فرضت‘‘ لأنہ لو جاز نکاح إحداھما علٰی تقدیر مثل المرأۃ وبنت زوجھا أو إمرأۃ إبنھا فإنہ یجوز الجمع بینھما عند الأئمۃ الأربعۃ، وقد جمع عبداللہ بن جعفر زوجۃ علیّ وبنتہ، ولم ینکر علیہ أحد، وبیانہ أنہ لو فرضت بنت الزوج ذکرًا بأن کان ابن الزوج لم یجز لہ أن یتزوج بھا، لأنھا موطوئۃ أبیہ، ولو فرضت المرأۃ ذکرًا لجاز لہ أن یتزوج ببنت الزوج لأنھا بنت رجل أجنبی۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۰۴، ۱۰۵، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

