بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

باپ‌کی‌منکوحہ‌سے‌نکاح‌نہیں‌ہوسکتا‌خواہ‌رُخصتی‌نہ‌ہوئی‌ہو

سوال:۔

ایک شخص نے جو پہلے بھی شادی شدہ تھا، ایک لڑکی سے نکاح کیا، لیکن رُخصتی سے پہلے فوت ہوگیا، اس کی اولاد جوان ہے اور وہ اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتی ہے (یعنی اس شخص کا لڑکا اس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے) کیا اس لڑکی اور لڑکے کے درمیان نکاح ہوسکتا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا حل فرمائیں۔

جواب:۔

جس لڑکی سے باپ نے نکاح کیا ہو، خواہ رُخصتی نہ ہوئی ہو، اس سے اولاد کا نکاح جائز نہیں، کیونکہ باپ کی منکوحہ نصِ قرآن کی رُو سے حرام ہے۔(۱)

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ﵞ النساء ٢٢۔ قال القاضی: والصحیح عندی ان المراد بالنکاح فی ھٰذہ الآیۃ العقد دون الجماع۔ (تفسیر المظھری ج:۲ ص:۵۴)۔ أما منکوحۃ الأب فتحرم بالنص، وھو قولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ﵞالنساء ٢٢، والنکاح یذکر ویراد بہ العقد سواءً کان الأب دخل أو لَا، لأن إسم النکاح یقع علی العقد والوطیٔ فتحرم بکل واحد منھما علی ما نذکر ۔۔۔إلخ۔ (البدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۶۰، کتاب النکاح، فصل وأما الفرقۃ الرابعۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔