جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
بیویکینواسیسےکبھیبھینکاحجائزنہیں
سوال:۔
زید اپنی منکوحہ کی سگی نواسی کو نکاح میں لانا چاہتا ہے، شریعتِ محمدیہ کی رُو سے یہ نکاح حلال ہے یا نہیں؟ زید کی زوجہ تاحال حیات ہے۔
جواب:۔
جس طرح اپنی بیٹی اور بیٹی کی بیٹی حرام ہے، اسی طرح بیوی کی بیٹی اور نواسی بھی ہمیشہ کے لئے حرام ہے، لہٰذا زید کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کی سگی نواسی سے نکاح کرے، نہ بیوی کی زندگی میں اور نہ اس کے مرنے کے بعد۔(۱)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ـــ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم ﵞ النساء ٢٣ ویشتمل الربائب بعموم المجاز أو بالقیاس بنات أبناء الزوجات وبنات بناتھنّ وإن سفلن۔ (تفسیر مظھری ج:۱ ص:۶۰)۔ وفی الھندیۃ: القسم الثانی المحرمات بالصھریۃ: وھی أربع فرق (إلٰی قولہ) والثانیۃ: بنات الزوجۃ وبنات أولَادھا وإن سفلن بشرط الدخول بالاُمّ کذا فی الحاوی القدسی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۷۳، کتاب النکاح، الباب الثالث)۔

