بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

خالہ‌اور‌بھانجی‌سے‌بیک‌وقت‌نکاح‌حرام‌ہے

سوال:۔

ہمارے والد محترم نے ہماری والدہ سے شادی کے کئی سال بعد ہماری والدہ کی بڑی بہن کی بیٹی سے خفیہ طور پر نکاح خواں سے رشتے کی نوعیت کا اظہار کئے بغیر شادی کرلی ہے۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ آیا شریعت کی رُو سے ’’خالہ‘‘ اور ’’بھانجی‘‘ سے بیک وقت اس طرح نکاح جائز ہے؟ اور آیا ہماری نئی والدہ جو رِشتے کے اعتبار سے ہماری خالہ کی بیٹی ہے، ماں کی حیثیت حاصل کرسکتی ہے؟

جواب:۔

آپ کی والدہ کی موجودگی میں یہ نکاح جائز نہیں،(۱) بلکہ احادیث کی رُو سے حرام اور ممنوع ہے، آپ کے والد محترم نئی دُلہن کو فوراً الگ کردیں، یہ نکاح نہیں، زنا ہے۔ اور آپ کے والد کے حق میں اندیشۂ کفر ہے،(۲) اس لئے ایمان کی تجدید کرکے آپ کی والدہ سے بھی دوبارہ نکاح کریں۔(۳)

  1. (۱) قال تعالٰی:ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ـــ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ ﵞ النساء ٢٣قال القاضی: والتحقت بہ بالسُّنَّۃ والْإجماع حرمۃ الجمع بین امرأۃ وعمّتھا وامرأۃ وخالتھا۔ (التفسیر المظھری ج:۲ ص:۶۲ سورۃ النساء)۔ وفی شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۳۳۰ کتاب النکاح: مسألۃ: تحریم الجمع بین المرأۃ وعمّتھا وخالتھا۔۔۔ وذالک لما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی أخبار متواترۃ، لَا تنکح المرأۃ علٰی عمّتھا، ولَا علٰی خالتھا ۔۔۔إلخ۔ أیضًا بخاری ج:۲ ص:۷۶۶، کتاب النکاح، والفتاوی الھندیۃ ج:۱ ص:۲۷۷، کتاب النکاح، الباب الثالث۔
  2. (۲) من اعتقد الحرام حلالًا (إلٰی قولہ) إن کان دلیلہ قطعیًّا کفر۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳)۔
  3. (۳) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔ (ج۴ ص:۲۴۷، باب المرتد)۔