جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
سوتیلیپھوپھیسےشادیجائزنہیں
سوال:۔
’’ق‘‘ نے پہلی شادی کے کافی عرصے بعد دُوسری شادی کی، مسئلہ یہ ہے کہ ’’ق‘‘ کی پہلی بیوی کے بیٹے کے بیٹے کی شادی اس کی دُوسری بیوی کی بیٹی سے جائز ہے کہ نہیں؟ یعنی ’’ق‘‘ کے پوتے کی شادی اس کی بیٹی سے جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ رشتے میں لڑکی، لڑکے کی سوتیلی پھوپھی ہوتی ہے اور لڑکا سوتیلا بھتیجا۔ دراصل پریشانی یہ ہے کہ یہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں اور ہم سب کے خیال میں کتاب و سنت کی روشنی میں یہ سب جائز نہیں، آپ جلد از جلد ہمیں اس کا جواب دیں تاکہ دونوں کو سمجھایا جاسکے۔
جواب:۔
جس طرح سگی پھوپھی سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح سوتیلی پھوپھی سے بھی جائز نہیں۔(۱)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ـــ وَعَمَّٰتُكُمۡ ﵞ النساء ٢٣۔ وفی تفسیر النسفی (ج:۱ ص:۳۴۶) حرمت علیکم امھاتکم۔۔۔ وعماتکم من الأوجہ الثلاثۃ۔ وفی الھندیۃ: وأما العمَّات فثلاث عمّۃ لأب واُمّ وعمّۃ لأب وعمّۃ لاُمّ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۷۳، کتاب النکاح، الباب الثالث)۔

