جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
جسعورتکوگھرآبادکرلیاہو،اُسکیپہلیاولادسےکبھیبھینکاحجائزنہیں
سوال:۔
آج سے پانچ سال قبل میرے شوہر کا اِنتقال ہوگیا، اس کی طرف سے میری ایک لڑکی ہوئی، میرے شوہر کے اِنتقال کے تین سال بعد کسی مجبوری کے لئے میں نے دُوسری شادی کرلی، اس وقت میری لڑکی کی عمر ۱۲ سال تھی، میری شادی کو اَب دو سال ہوگئے، اب اس کی عمر ۱۴ سال ہے۔ اب کہنا یہ ہے کہ اس کا دُوسرا باپ میری لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے، وہ مجھے بھی چھوڑنا نہیں چاہتا، کہتا ہے دونوں کو رکھوں گا، تو کیا خدا کی طرف سے جائز ہے؟ میں اس کو یہ کہتی ہوں کہ آپ مجھے طلاق دے دو، پھر یہ شادی ہوسکتی ہے، تو آپ مجھے یہ بتائیے کہ میرے طلاق لے لینے سے یہ شادی جائز ہوجاتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔
جس عورت کو نکاح کرکے گھر میں آباد کرلیا ہو، اس کی لڑکی مرد کی اولاد کی طرح ہوجاتی ہے، اور جس طرح اپنی سگی لڑکی سے نکاح کا کوئی شریف آدمی تصوّر بھی نہیں کرسکتا، اسی طرح بیوی کی لڑکی سے نہ نکاح ہوسکتا ہے اور نہ کوئی شریف آدمی ایسا سوچ سکتا ہے۔ آپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ ’’مجھے طلاق دے دو تب یہ شادی ہوسکتی ہے‘‘ نہیں! بلکہ وہ اگر آپ کو طلاق دیدے تب بھی نہیں ہوسکتی۔(۱)
- (۱) ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ــ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ ﵞ النساء ٢٣۔

