جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
سوتیلیماںسےنکاححرامہے
سوال:۔
زید کے والد زوجہ کے اِنتقال کے بعد اپنی سالی کی لڑکی کے ساتھ عقدِ ثانی کرتے ہیں، لڑکی کی عمر ۱۸ برس کی اور زید کے والد کی ستر سال۔ زید اپنی سوتیلی ماں کو نہ ماں کہتا ہے، اور نہ ماں اس کو بیٹا کہتی ہے۔ دو سال کے بعد زید کے والد کا اِنتقال ہوجاتا ہے، زید کی سوتیلی ماں زید سے عقدِ ثانی کی خواہش مند ہے، کیا یہ نکاح ہوسکتا ہے؟ تمام معاملہ آپ کے جواب تک رُکا رہے گا۔
جواب:۔
سوتیلی ماں کا نکاح سوتیلے بیٹے سے بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح حقیقی ماں کا۔(۱)
- (۱) ﵟ وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ﵞ النساء ٢٢۔

