جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
جسعورتسےصحبتہوچکیہے،اُسکیاولادشوہرپرحرامہے
سوال:۔
زید نے ہندہ سے جب شادی کی تو ہندہ خلع یافتہ تھی اور سابقہ شوہر سے اس کے بچے بھی تھے، جو شادی کے بعد بجائے اپنے سگے باپ کے ساتھ رہنے کے، اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگے۔ چند سال کے بعد سابقہ شوہر سے ہندہ کی بڑی لڑکی کے اپنے سوتیلے باپ یعنی زید کے ساتھ تعلقات اُستوار ہوگئے، ہندہ نے ان تعلقات کا علم ہوتے ہی اپنے تعلقات زید سے ختم کرلئے اور طلاق حاصل کرلی۔ اب زید ہندہ کی بڑی لڑکی یعنی اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے، جبکہ ہندہ سے بھی زید کے اپنے بچے ہیں، کیا ایسی صورتِ حال میں مذہبِ اسلام فقہِ حنفی کی رُو سے اس شادی کی اِجازت دیتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
جس عورت سے نکاح کے بعد صحبت ہوگئی ہو، اس کی اولاد مرد پر اسی طرح حرام ہوجاتی ہے جس طرح کہ اپنی اولاد حرام ہے، یہ مسئلہ قرآنِ کریم میں مذکور ہے، اور اس میں کسی فقہ کا اِختلاف نہیں۔(۱)
- (۱) ﵟ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ ﵞ النساء ٢٣۔۔ وفی تفسیر النسفی تحت ھٰذہ الآیۃ: الربیبۃ من المرأۃ المدخول فیھا حرام علی الرجل۔ (تفسیر نسفی ج:۱ ص:۳۴۶، طبع دار ابن کثیر، بیروت)۔

