جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
سوتیلیماںسےنکاحکرنےوالےکیشرعیحیثیت
سوال:۔
ہمارے علاقے میں ایک شخص احمد بخش مغل رہتا ہے، جو نماز بھی باقاعدگی سے پڑھتا ہے، اپنے والد کے فوت ہونے کے بعد اپنی سوتیلی ماں (جو اس کی عمر سے تقریباً چار سال بڑی ہے) سے نکاح کرلیا، کوئی نہیں جانتا کہ یہ نکاح کہاں ہوا؟ ان لوگوں نے مشہور کردیا کہ ہم میاں بیوی ہیں، جبکہ احمد کے والد سے اس عورت کے سات بچے بھی ہوئے، جو موجود ہیں، بڑے بچے اس شخص کو ’’بھائی‘‘ اور چھوٹے بچے ’’ابو‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ شناختی کارڈ فارم میں ابھی تک ماں بیٹا لکھا ہوا ہے، اس واقعے کو دس سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ یہ سوال ایک عرصے سے لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں، متعدّد بار اس بارے میں معلوم کیا گیا، مگر کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ اب یہ سوال آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، اس اُمید پر کہ آپ اس مسئلے کو صحیح طریقے سے واضح بیان کریں گے۔
۱:۔ آیا ان کا یہ رشتہ صحیح ہے یا غلط؟ اور ان کی دِینِ اسلام میں کیا حیثیت ہے؟
جواب:۔
یہ رشتہ جائز نہیں، یہ دونوں واجب القتل ہیں، اگر اِسلامی حکومت ہوتی تو ان کو قتل کرادیتی۔(۱)
۲:۔ کیا ان لوگوں کے ساتھ میل جول، کھانا پینا جائز ہے؟
جواب:۔
ہرگز جائز نہیں۔(۲)
۳:۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کا کیا مقام ہے؟
جواب:۔
باپ کی منکوحہ کے ساتھ نکاح کا حرام ہونا قرآنِ کریم میں ذِکر کیا گیا ہے،(۳) اس کو جائز سمجھنے والا مرتد اور واجب القتل ہے۔(۴)
- (۱) عن البراء بن عازب قال: بینما أنا أطوف علٰی إبل لی ضلت إذا أقبل رکبٌ أو فوارس معھم لواء، فجعل الأعراب یطیفون بی لمنزلتی من النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذ أتوا قُبۃً، فاستخرجوا منھا رجلًا فضربوا عنقہ، فسألت عنہ فذکروا أنہ أعرس (أی نکح) بإمرأۃ أبیہ۔ عن یزید بن البراء عن أبیہ قال: لقیت عمی ومعہ رایۃٌ فقلت لہ: این ترید؟ فقال: بعثنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلٰی رجل نکح إمرأۃ أبیہ فأمرنی أن أضرب عنقہ، وآخذ مالہ۔ (سنن أبی داوٗد ج:۲ ص:۲۵۶، باب فی الرجل یزنی بحریمہ، کتاب الحدود)۔ وفی الحاشیۃ نمبر۲: قولہ: فأمرنی أن أضرب عنقہ یستنبط منہ ان نکاح المحارم یوجب الکفر والْإرتداد ولھٰذا حکم علیہ السلام بقتلہ، کذا قال مولَانا رفیع الدین الدھلوی۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: بذل المجھود ج:۵ ص:۱۵۱، کتاب الحدود، طبع المکتبۃ الیحیویۃ، سھارنپور۔
- (۲) ﵟ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨ ﵞ الأنعام ٦٨
- (۳) ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ ﵞ النساء ٢٣۔
- (۴) عن البراء بن عازب قال: بینما أنا أطوف علٰی إبل لی ضلت إذا أقبل رکبٌ أو فوارس معھم لواء، فجعل الأعراب یطیفون بی لمنزلتی من النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذ أتوا قُبۃً، فاستخرجوا منھا رجلًا فضربوا عنقہ، فسألت عنہ فذکروا أنہ أعرس (أی نکح) بإمرأۃ أبیہ۔ عن یزید بن البراء عن أبیہ قال: لقیت عمی ومعہ رایۃٌ فقلت لہ: این ترید؟ فقال: بعثنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلٰی رجل نکح إمرأۃ أبیہ فأمرنی أن أضرب عنقہ، وآخذ مالہ۔ (سنن أبی داوٗد ج:۲ ص:۲۵۶، باب فی الرجل یزنی بحریمہ، کتاب الحدود)۔ وفی الحاشیۃ نمبر۲: قولہ: فأمرنی أن أضرب عنقہ یستنبط منہ ان نکاح المحارم یوجب الکفر والْإرتداد ولھٰذا حکم علیہ السلام بقتلہ، کذا قال مولَانا رفیع الدین الدھلوی۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: بذل المجھود ج:۵ ص:۱۵۱، کتاب الحدود، طبع المکتبۃ الیحیویۃ، سھارنپور۔

