جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
سوتیلےوالدسےنکاحجائزنہیں
سوال:۔
رضیہ کی والدہ کی شادی پچّیس سال پہلے ہوئی تھی، اور ایک سال بعد رضیہ نے جنم لیا، لیکن جب رضیہ کی عمر دس سال ہوئی تو اس کے والدین میں کچھ ناچاقی پیدا ہوگئی، جس سے رضیہ کے والد نے رضیہ کی والدہ کو طلاق دے دی، اور رضیہ کو مہر کی جگہ والدہ کو لکھ کر دے دیا۔ کچھ عرصہ گزرا تو رضیہ کی والدہ نے اپنے سے پندرہ سال کم عمر لڑکے سے شادی کرلی، رضیہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ رہتی رہی، لیکن خدا کو کچھ منظور نہ تھا، اس لئے دُوسری شادی بھی کامیاب نہ رہی اور طلاق ہوگئی، اس وقت رضیہ کی عمر ۲۴ سال ہے اور اس کے سوتیلے باپ کی عمر ۳۵ سال ہے۔ رضیہ کا خیال ہے کہ وہ اس آدمی سے شادی کرلے جبکہ رشتے سے وہ رضیہ کا سوتیلا باپ لگتا تھا، لیکن اب کوئی رشتہ نہیں کیونکہ اس نے رضیہ کی والدہ کو طلاق دے دی ہے، اور نہ ہی یہ آدمی خاندان میں سے ہے۔ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیے کہ کیا رضیہ کا نکاح اس آدمی سے ہوسکتا ہے؟
جواب:۔
سوتیلا باپ ہمیشہ کے لئے باپ رہتا ہے، خواہ لڑکی کی والدہ مرگئی ہو یا اسے طلاق دے دی ہو۔ رضیہ کا نکاح اس کے سوتیلے باپ سے نہیں ہوسکتا، سوتیلا باپ بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح سگا باپ حرام ہے۔(۱)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ــ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ ﵞ النساء ٢٣۔ أیضًا: بنات الزوجۃ وبنات أولَادھا وإن سفلن بشرط الدخول بالأم کذا فی الحاوی القدسی، سواء کانت لِابنۃ فی حجرہ أو لم تکن کذا فی شرح الجامع الصغیر لقاضیخان۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۷۴)۔ وحرم المصاھرۃ بنت زوجتہ الموطوئۃ ۔۔۔إلخ۔ قولہ بنت زوجتہ الموطوئۃ أی سواء کانت فی حجرہ أی کنفہ ونفقتہ أو لَا۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۳۰، فصل فی المحرمات، طبع ایچ ایم سعید)۔

