جنعورتوںسےنکاحجائزنہیں
سگیبھانجیسےنکاحکوجائزسمجھناکفرہے
سوال:۔
میرے ایک سگے ماموں ہیں جو کہ عمر میں مجھ سے ۱۰ سال بڑے ہیں، انہوں نے مجھے ایک بزرگ کا دھوکا دیا اور کہا کہ ایک بزرگ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ماموں کی سگی بھانجی سے شادی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا انہوں نے مجھ کو بے وقوف بناکر مجھ سے شادی کرلی۔ میں انٹر کی طالبہ ہوں، مجھے ان کی دھوکابازیوں کا بعد میں علم ہوا، انہوں نے مجھ سے اپنا نکاح نامہ بھی لکھوالیا ہے، اب میں بے حد پریشان ہوں، میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اب میں کیا کروں؟ میرے گھر والے یعنی امی ابا، بہن بھائی اس بات سے بے خبر ہیں، میں نے کہا کہ ماموں یہ تو گناہ ہے تو کہنے لگے کہ کوئی گناہ نہیں ہے، یہ جائز ہے۔ اب مجھے ذرا یہ بھی بتادیں کہ اگر یہ ناجائز ہے، گناہ ہے تو اس کا کفارہ کیسے ادا ہوگا؟ آپ مجھے یہ بتادیں کہ کیا یہ شادی جائز ہے یا ناجائز ہے؟
جواب:۔
ماموں بھانجی کا نکاح قرآنِ کریم کی نصِ قطعی سے حرام ہے،(۱) جو شخص اس کو جائز کہے جیسا کہ آپ کے بدقماش ماموں نے کہا، وہ کافر و مرتد ہے۔(۲) اس کو چاہئے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے اور اس کفر سے توبہ کرے۔(۳) آپ کو لازم تھا کہ آپ ان سے کہتیں کہ کسی مستند عالم کا فتویٰ لاؤ تب میں اس شادی کے لئے تیار ہوسکوں گی۔ بہرحال یہ نکاح نہیں ہوا، نہ ہوسکتا ہے۔ آپ اپنے والدین کو اس کی اطلاع کردیں۔
- (۱) ایضاً حاشیہ گذشتہ: قال تعالٰی:ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ ﵞــ الخ
- (۲) ایضاً حاشیہ گذشتہ:من اعتقد الحرام حلالًا...الخ
- (۳) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح وما فیہ إختلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷ باب المرتد)۔

