بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

بھانجی‌سے‌نکاح‌باطل‌ہے،‌علیحدگی‌کے‌لئے‌طلاق‌کی‌ضرورت‌نہیں

سوال:۔

میرا ایک گہرا دوست ہے، اس نے اپنی حقیقی بھانجی سے شادی کرلی ہے، یہ اس طرح کہ میرا دوست سلیم اور اس کی بہن شاہدہ ایک ماں کی اولاد ہیں، شاہدہ کا باپ مرگیا تھا تو شاہدہ کی ماں نے نکاح کرلیا، اس سے سلیم پیدا ہوا، شاہدہ اور سلیم نے ایک ہی ماں کا دُودھ پیا ہے، ایک ماں سے پیدا ہوئے ہیں، جبکہ باپ الگ الگ تھے، شاہدہ کی شادی کے بعد نوراں پیدا ہوئی اور جب وہ جوان ہوئی تو سلیم کو پسند کرنے لگی، سلیم بھی چاہنے لگا اور خود کو عاقل و بالغ ظاہر کرکے شادی کرلی۔ میرا دوست کہتا ہے کہ یہ شادی جائز ہے، کیونکہ ہم نے نکاح کیا ہے، نکاح کسی سے بھی جائز ہے، ہم نے حرام نہیں کیا۔ جبکہ شرعی لحاظ سے یہ نکاح ہوا ہی نہیں ہے۔ نوراں کہتی ہے کہ سلیم مجھے طلاق دے دے میں الگ ہوجاؤں گی۔ سلیم کہتا ہے کہ جب نکاح نہیں ہوا تو طلاق کیسی؟ یہ الگ رہے اور نکاح کرلے میں زبردستی تھوڑی رکھ رہا ہوں۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا جب تک وہ طلاق نہ لکھے نوراں شادی نہیں کرسکتی یا بغیر طلاق کے نوراں کا نکاح جائز ہوگا؟ وہ الگ ہوجائے یا وہ اسی طرح زندگی بسر کریں؟ اور ان لوگوں کے یہاں کا کھانا پینا، ان سے ملنا جلنا جائز ہے یا نہیں؟ اسلام کی رُو سے کیا حکم ہے؟

جواب:۔

آپ کے دوست کا اپنی بھانجی سے نکاح قرآنِ کریم کی نصِ قطعی سے باطل ہے،(۱) اور اس کو حلال اور جائز سمجھنے والا کافر و مرتد ہے۔(۲) یہ نکاح نہیں ہوا، نہ طلاق کی ضرورت ہے، کیونکہ طلاق کی ضرورت نکاح کے بعد ہوتی ہے، جب نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق کے کیا معنی؟ البتہ چونکہ یہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے ملاپ کرچکے ہیں اس لئے آپ کے دوست پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان سے یہ الفاظ کہہ دے کہ میں نے اس کو الگ کیا،(۳) اور یہ کہہ کر دونوں فوراً الگ ہوجائیں اور فعلِ بد سے توبہ کریں اور دونوں اپنے ایمان کی بھی تجدید کریں،(۴) جب تک وہ توبہ کرکے الگ الگ نہیں ہوجاتے ان سے مسلمانوں کا سا برتاؤ جائز نہیں۔(۵)

  1. (۱) قال تعالٰی:ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ ﵞ النساء ٢٣ ۔
  2. (۲) من اعتقد الحرام حلالًا (إلٰی قولہ) فإن کان دلیلہ قطعیا کفر۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳، باب المرتد)۔
  3. (۳) المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لَا تکون إلّا بالقول کخلیت سبیلک أو ترکتک۔ (رد المحتار، مطلب فی النکاح الفاسد ج:۳ ص:۱۳۳، البحر الرائق، باب العدّۃ ج:۴ ص:۱۴۶)۔
  4. (۴) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد)۔
  5. (۵) ﵟ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨ ﵞ الأنعام ٦٨۔