بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

باپ‌شریک‌بہن‌کے‌لڑکے‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

سوال:۔

میرے ابا نے پہلے شادی کی، چھ بچے پیدا ہوئے، پھر پہلی بیوی کو طلاق دے دی، پھر میرے ابا نے اپنی سگی خالہ کی لڑکی سے دُوسری شادی کی، اس سے بھی چھ بچے ہوئے، پھر پہلی بیوی کی لڑکی کی شادی دُوسری بیوی کے بھائی سے کردی۔ اب وہ میرے ماموں اور ممانی بھی لگتے ہیں، اور سوتیلی بہن بہنوئی بھی۔ ان کا ایک لڑکا ہے اب ہم ایک دُوسرے کو بہت چاہتے ہیں، ہم ایک دُوسرے کے ماموں پھوپھی زاد بہن بھائی بھی ہیں اور خالہ بھانجے بھی ہیں، کیا ہم دونوں کی آپس میں شادی ہوسکتی ہے؟

جواب:۔

آپ کی سوتیلی بہن، جو رِشتے میں آپ کی ممانی بھی لگتی ہیں اس کے لڑکے سے آپ کا عقد نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ لڑکا آپ کا بھانجا ہے، اور خالہ بھانجے کا عقد نہیں ہوسکتا۔(۱)

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ ــ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ ﵞ النساء ٢٣۔ وفی الدر المختار: أسباب التحریم أنواع: قرابۃ، مصاہرۃ، رضاع ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: (قولہ قرابۃ) کفروعہ۔۔۔ وفروع أبویہ فتحرم بنات الْإخوۃ والأخوات وبنات أولَاد الْإخوۃ والأخوات ۔۔۔إلخ۔۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، فصل فی المحرمات ج:۳ ص:۲۸)۔