بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کن‌عورتوں‌سے‌نکاح‌جائز‌ہے؟

محض‌بھائی‌یا‌بہن‌کہنے‌سے‌نامحرَم،‌بھائی‌بہن‌نہیں‌بن‌سکتے

سوال:۔

میرے ماموں کی لڑکی جو کہ مجھے اپنا بھائی سمجھتی ہے اور میں بھی اس کو اپنی بہن کا درجہ دیتا ہوں، کچھ دنوں سے ہمارے رشتے کی بات چل گئی ہے، اس لئے قرآن مجید کی روشنی سے حوالہ دیجئے کہ یہ رشتہ قابلِ قبول ہے؟ جبکہ ہم دونوں اب تک بھائی بہن ہی کی طرح ایک دُوسرے کے ساتھ رہتے ہیں۔

جواب:۔

ماموں زاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد، چچا زاد سے نکاح جائز ہے،(۱) اور نامحرَم کو بھائی بہن بنالینے سے سچ مچ کے بھائی بہن نہیں بن جاتے۔(۲)

  1. (۱) وتحل بنات العمَّات والأعمام والخالَات والأخوال۔ (رد المحتار، فصل فی المحرمات ج:۳ ص:۲۸)۔
  2. (۲) قال تعالٰی: ﵟ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيۡدٞ مِّنۡهَا وَطَرٗا زَوَّجۡنَٰكَهَا لِكَيۡ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ حَرَجٞ فِيٓ أَزۡوَٰجِ أَدۡعِيَآئِهِمۡ ﵞ الأحزاب ٣٧، الآیۃ، قد حوت ھٰذہ الآیۃ أحکامًا۔۔۔ الثانی: ان البنوۃ من جھۃ التبنی لَا تمنع جواز النکاح۔ (أحکام القرآن للجصّاص ج:۳ ص:۳۶۱، سورۃ الأحزاب، طبع سھیل اکیڈمی)۔